قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوۡتُ قَوۡمِي لَيۡلٗا وَنَهَارٗا
He said, "My Lord, indeed I invited my people [to truth] night and day
It is evident from the utterances of Noah that his way of delivering the divine message is identical with that adopted in the Quran for inviting people to the Truth. Noah based his reasoning on the events of the universe while urging others to reform. He addressed the people collectively and also had individual discussions. He spared no effort to bring people on to the right path. But his people were not ready to accept him.
حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔