يَوۡمَ يَخۡرُجُونَ مِنَ ٱلۡأَجۡدَاثِ سِرَاعٗا كَأَنَّهُمۡ إِلَىٰ نُصُبٖ يُوفِضُونَ
The Day they will emerge from the graves rapidly as if they were, toward an erected idol, hastening
In this world when there is the example of an inferior thing being improved upon, the occurrence of similar other events is quite within the realm of the possible. Those who, in spite of such clear signs, do not learn any lessons are undoubtedly frivolous people. Such people learn lessons only when they are compelled to do so.
زمین پر بار بار مشرق اور مغرب کا بدلنا زمین کی اس انوکھی خصوصیت کی بنا پر ہوتا ہے جس کو محوری جھکاؤ (axial tilt) کہتے ہیں۔ اور جس کی وجہ سے زمین پر مختلف قسم کے موسم پیدا ہوتے ہیں۔ سورج کی نسبت سے اگر زمین میں یہ جھکاؤ نہ ہوتا تو زمین انسان کے لیے بہت کم مفید ہوتی۔ اس جھکاؤ نے زمین کو انسان کے لیے بہت زیادہ مفید بنا دیا۔
جس دنیا میں کم بہتر کو زیادہ بہتر بنانے کی ایسی مثال موجود ہو، اس دنیا میں اسی نوعیت کے دوسرے واقعات کا ظہور میں آنا کچھ بھی مستبعد نہیں۔ ان کھلی کھلی نشانیوں کے باوجود جو لوگ نصیحت نہ پکڑیں وہ بلا شبہ غیرسنجیدہ لوگ ہیں۔ اور غیر سنجیدہ لوگ صرف اس وقت نصیحت پکڑتے ہیں جب کہ وہ اس کے لیے مجبور کردیے گئے ہوں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →