فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلرَّجۡفَةُ فَأَصۡبَحُواْ فِي دَارِهِمۡ جَٰثِمِينَ
So the earthquake seized them, and they became within their home [corpses] fallen prone
Truth always reveals itself on the strength of arguments and not on the strength of worldly glories. Those who are capable of seeing the Truth in the shape of arguments immediately find it, while those perpetually awed by outward glories remain doubtful. They never receive God’s guidance to become supporters of truth. The killer of Salih’s she-camel was an arrogant member of that community. But this action was attributed to the entire community and it was said, ‘They hamstrung the she-camel.’ This shows that if one member among a group performs a bad deed and other people do not condemn such deeds, all of them are treated as a party to this criminal action. The community which succumbs to desire is not at all impressed by realistic talk. It is not prepared to support anyone who invites its members to engage in serious and sincere action. On the contrary, huge crowds gather around people who utter pleasant words and trade in false promises. They are not attracted towards true well- wishers, but rush towards the exploiters.
پیغمبر جب آتا ہے تو اپنے زمانہ میں وہ ایک متنازعہ شخصیت ہوتا ہے، نہ کہ ثابت شدہ شخصیت۔ مزید یہ کہ اس کے ساتھ دنیا کی رونقیں جمع نہیں ہوتیں، وہ دنیا کی گدیوں میں سے کسی گدی پر بیٹھا ہوا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ پیغمبر کے معاصر ہوتے ہیں وہ پیغمبر کے پیغمبر ہونے کو سمجھ نہیں پاتے اور اس کا انکار کردیتے ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ وہ شخص جس کو ہم صرف ایک معمولی آدمی کی حیثیت سے جانتے ہیں وہی وہ شخص ہے جس کو خدا نے اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے ليے چنا ہے۔
’’ہم صالح کے پیغام (إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِهِ) پر ایمان لائے ہیں‘‘ —حضرت صالح کے ساتھیوں کا یہ جواب بتاتا ہے کہ ان میں اور دوسروں میں کیا فرق تھا۔ منکرین نے حضرت صالح کی شخصیت کو دیکھا اور مومنین نے آپ کے اصل پیغام کو۔ منکروں کو حضرت صالح کی شخصیت میں ظاہری عظمت دکھائی نہ دی، انھوںنے آپ کو نظر انداز کردیا۔ اس کے برعکس، مومنین نے حضرت صالح کے پیغام میں حق کے دلائل اور سچائی کی جھلکیاں دیکھ لیں، وہ فوراً ان كے ساتھي بن گئے۔ سچائی ہمیشہ دلائل کے زور پر ظاہر ہوتی ہے، نہ کہ دنیوی عظمتوں کے زور پر۔ جو لوگ دلائل کے روپ میں حق کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ فوراً اس کو پالیتے ہیں۔ اور جو لوگ ظاہری بڑائیوں میں اٹکے ہوئے ہوں وہ مشتبہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ انھیں کبھی حق کا ساتھ دینے کی توفیق حاصل نہیں ہوتی۔
حضرت صالح کی اونٹنی کو مارنے والا اگر چہ قوم کا ایک سرکش آدمی تھا۔ مگر یہاں اس کو پوری قوم کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ’’ان لوگوں نے اونٹنی کو ہلاک کردیا‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی گروہ کا ایک شخص برا عمل کرے اور دوسرے لوگ اس کے برے فعل پر راضی رہیں۔ تو سب کے سب اس مجرمانہ فعل میں شریک قرار دیے جاتے ہیں۔
جو قوم خواہش پرستی کا شکار ہو اس کو حقیقت پسندی کی باتیں اپیل نہیں کرتیں۔ وہ ایسے شخص کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتی جو اس کو سنجیدہ عمل کی طرف بلاتا ہو۔ اس کے برعکس، جو لوگ خوش نما الفاظ بولیں اور جھوٹی امیدوں کی تجارت کریں، ان کے گرد بھیڑ کی بھیڑ جمع ہوجاتی ہے۔ سچے خیر خواہ کے لیے اس کے اندر کوئی کشش نہیں ہوتی۔ البتہ ان لوگوں کی طرف وہ تیزی سے دوڑ پڑتی ہے جو اس کا استحصال کرنے کے ليے اٹھے ہوں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →