قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُوٓاْ إِنَّا بِٱلَّذِيٓ ءَامَنتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ
Said those who were arrogant, "Indeed we, in that which you have believed, are disbelievers
The people of Thamud perfected the art of construction. They were definitely well versed in related branches of knowledge, for example, mathematics, geometry and engineering, otherwise such development could not have been possible. But they were held guilty not of material developments but of spreading disturbance on the earth. This means that God does not prohibit progress within legitimate limits. But, in the matter of how he conducts his life, man should follow the balanced system which God has enforced in the whole universe. When a prophet comes to the world, he is a controversial figure in his time rather than an established personality. Moreover, he is not surrounded by worldly glories. He is not the occupier of any of the important seats of the time. That is why his contemporaries, unable to understand his prophethood, reject him. They find it difficult to believe that one whom they know as an ordinary person is the very individual whom God has chosen to deliver His message. ‘We are believers in that with which he has been sent.’ This reply of Salih’s companions tells us the difference between them and others. Those who deny the truth looked at the personality of Salih while the believers looked at the real message. Since, for those who denied the truth, no outward glory surrounded the personality of Salih, they ignored him. The believers, on the contrary, saw glimpses of Truth in Salih’s message, so they immediately accepted his words and became his companions.
پیغمبر جب آتا ہے تو اپنے زمانہ میں وہ ایک متنازعہ شخصیت ہوتا ہے، نہ کہ ثابت شدہ شخصیت۔ مزید یہ کہ اس کے ساتھ دنیا کی رونقیں جمع نہیں ہوتیں، وہ دنیا کی گدیوں میں سے کسی گدی پر بیٹھا ہوا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ پیغمبر کے معاصر ہوتے ہیں وہ پیغمبر کے پیغمبر ہونے کو سمجھ نہیں پاتے اور اس کا انکار کردیتے ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ وہ شخص جس کو ہم صرف ایک معمولی آدمی کی حیثیت سے جانتے ہیں وہی وہ شخص ہے جس کو خدا نے اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے ليے چنا ہے۔
’’ہم صالح کے پیغام (إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِهِ) پر ایمان لائے ہیں‘‘ —حضرت صالح کے ساتھیوں کا یہ جواب بتاتا ہے کہ ان میں اور دوسروں میں کیا فرق تھا۔ منکرین نے حضرت صالح کی شخصیت کو دیکھا اور مومنین نے آپ کے اصل پیغام کو۔ منکروں کو حضرت صالح کی شخصیت میں ظاہری عظمت دکھائی نہ دی، انھوںنے آپ کو نظر انداز کردیا۔ اس کے برعکس، مومنین نے حضرت صالح کے پیغام میں حق کے دلائل اور سچائی کی جھلکیاں دیکھ لیں، وہ فوراً ان كے ساتھي بن گئے۔ سچائی ہمیشہ دلائل کے زور پر ظاہر ہوتی ہے، نہ کہ دنیوی عظمتوں کے زور پر۔ جو لوگ دلائل کے روپ میں حق کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ فوراً اس کو پالیتے ہیں۔ اور جو لوگ ظاہری بڑائیوں میں اٹکے ہوئے ہوں وہ مشتبہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ انھیں کبھی حق کا ساتھ دینے کی توفیق حاصل نہیں ہوتی۔
حضرت صالح کی اونٹنی کو مارنے والا اگر چہ قوم کا ایک سرکش آدمی تھا۔ مگر یہاں اس کو پوری قوم کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ’’ان لوگوں نے اونٹنی کو ہلاک کردیا‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی گروہ کا ایک شخص برا عمل کرے اور دوسرے لوگ اس کے برے فعل پر راضی رہیں۔ تو سب کے سب اس مجرمانہ فعل میں شریک قرار دیے جاتے ہیں۔
جو قوم خواہش پرستی کا شکار ہو اس کو حقیقت پسندی کی باتیں اپیل نہیں کرتیں۔ وہ ایسے شخص کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتی جو اس کو سنجیدہ عمل کی طرف بلاتا ہو۔ اس کے برعکس، جو لوگ خوش نما الفاظ بولیں اور جھوٹی امیدوں کی تجارت کریں، ان کے گرد بھیڑ کی بھیڑ جمع ہوجاتی ہے۔ سچے خیر خواہ کے لیے اس کے اندر کوئی کشش نہیں ہوتی۔ البتہ ان لوگوں کی طرف وہ تیزی سے دوڑ پڑتی ہے جو اس کا استحصال کرنے کے ليے اٹھے ہوں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →