وَنَزَعۡنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنۡ غِلّٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهِمُ ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ وَقَالُواْ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي هَدَىٰنَا لِهَٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِيَ لَوۡلَآ أَنۡ هَدَىٰنَا ٱللَّهُۖ لَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِٱلۡحَقِّۖ وَنُودُوٓاْ أَن تِلۡكُمُ ٱلۡجَنَّةُ أُورِثۡتُمُوهَا بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ
And We will have removed whatever is within their breasts of resentment, [while] flowing beneath them are rivers. And they will say, "Praise to Allah, who has guided us to this; and we would never have been guided if Allah had not guided us. Certainly the messengers of our Lord had come with the truth." And they will be called, "This is Paradise, which you have been made to inherit for what you used to do
The position in Hell will be that people who were friends in this world will hate and curse each other. But, the atmosphere in Heaven will be entirely different. Here, all people’s hearts will be open to each other. Fountains of love and well-wishing for others will emerge from every heart. For the man in Hell, his past will be a bitter memory, while for the man in Heaven his past will be a pleasant memory. The future life of evil people will start with their hearts being a graveyard of regret and frustration. Their past will be solely composed of bitter memories. In contrast to this, the condition of good people will be that their minds will be full of the remembrance of God on whom they had rightly relied. They will be happy to find the intimation given by the flag-bearers of Truth to be absolutely correct. They will thankfully recognize God’s grace in His having blessed them and inspired them to support those who summoned them to accept the Truth.
خدا کے داعیوں کے مقابلہ میں کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ان کے مدعو کے اندر متکبرانہ نفسیات جاگ اٹھتی ہیں اور وہ ان کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ داعی کی طرف صرف نشانی (دلیل) کا زور ہوتا ہے اور مدعو کی طرف مادی رونقوں کا زور۔داعی دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوتاہے اور اس کے مدعو مادیات کی بنیاد پر ۔ دلیل کی طاقت دکھائی نہیں دیتی اور مادی طاقت آنکھوںسے دکھائی دیتی ہے۔ یہی فرق لوگوں کے اندر کبر کا مزاج پیدا کردیتا ہے۔ لوگ داعی کو اپنے مقابلہ میں حقیر سمجھ کر اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔
ایسے لوگوں کا خدا کی رحمت میں داخل ہونا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا۔ انھوں نے خدا کو نظر انداز کیا اس ليے خدا نے بھی ان کو نظر انداز کردیا۔ خدا نے اپنے داعی کے ذریعے ان کو اپنی جھلکیاں دکھائیں۔ خدا ان کے سامنے دلائل کے روپ میں ظاہر ہوا مگر انھوںنے اس کو بے وزن سمجھا۔ انھوں نے خدائی نشانیوں کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔ ایسے لوگ کیوں کر خدا کی رحمتوں میں حصہ پاسکتے ہیں۔
دوزخیوں کا یہ حال ہوگا کہ جو لوگ دنیا میں ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے تھے وہ وہاں ايك دوسرے كے دشمن بن جائيں گے اور ایک دوسرے پر لعنت کررہے ہوں گے۔ مگر جنت کا ماحول اس سے بالکل مختلف ہوگا۔ یہاں سب کے دل ایک دوسرے کے ليے کھلے ہوئے ہوں گے۔ ہر ایک کے دل میں دوسرے کے ليے محبت اور خیرخواہی کا چشمہ پھوٹ رہا ہوگا۔ دوزخی انسان کے ليے اس کا ماضی ایک دکھ بھری داستان بنا ہوا ہوگا اور جنتی انسان کے ليے اس کا ماضی ایک خوش گوار یاد۔
برے لوگوں کے ليے ان کی اگلی زندگی اس طرح شروع ہوگی کہ ان کا سینہ حسرت اور یاس کا قبرستان بنا ہوا ہوگا۔ ان کا ماضی ان کے لیے تلخ یادوں کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ دوسری طرف اچھے لوگوں کا یہ حال ہوگا کہ ان کی زبانیں اس خدا کی یاد سے تر ہوں گی جس کو انھوں نے بجا طورپر اپنا سہارا بنایا تھا۔ وہ حق کے علم برداروں کی دی ہوئی خبر کو عین سچا پاکر خوش ہورہے ہوں گے کہ خدا کا یہ کتنا بڑا احسان تھا کہ اس نے انھیں ان داعیان حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائی۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →