أَوَلَمۡ يَنظُرُواْ فِي مَلَكُوتِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَيۡءٖ وَأَنۡ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَدِ ٱقۡتَرَبَ أَجَلُهُمۡۖ فَبِأَيِّ حَدِيثِۭ بَعۡدَهُۥ يُؤۡمِنُونَ
Do they not look into the realm of the heavens and the earth and everything that Allah has created and [think] that perhaps their appointed time has come near? So in what statement hereafter will they believe
‘On which day will Doomsday occur?’ Questions of this sort are produced by non-serious minds. Only the sincere will believe in the Day of Judgement, without wanting to know the exact date of its occurrence. As this world is a place of testing, Doomsday will be indicated here in terms of caution and warning alone.
با مقصد آدمی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ غیر مصلحت پسند انسان ہوتاہے۔ وہ وقت کے رواج سے اوپر اٹھ کر سوچتاہے۔ وہ ماحول میں جمے ہوئے مصالح سے بے پروا ہو کر اپنا کام کرتاہے۔ وہ ایک ایسے نشانہ کی خاطر اپنا جان ومال سب کچھ قربان کردیتاہے جس کا کوئی نتیجہ بظاہر اس دنیا میں ملنے والا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ بامقصد آدمی کو اکثر اپنے معاصرین کی طرف سے جو سب سے بڑا خطاب ملتاہے وہ ’’مجنون‘‘ ہے۔ خدا کا پیغمبر اپنے وقت کا سب سے بڑا بامقصد انسان ہوتاہے۔ اس ليے خداکے پیغمبروں کو ہر زمانہ کے لوگوں نے یہی کہا کہ یہ مجنون ہوگئے ہیں۔
خدا کے دین کے داعی کو مجنون کہنا تمام ظلموں میں سب سے بڑا ظلم ہے۔ کیوں کہ وہ جس پیغام کو لے کر اٹھتا ہے وہ ایک ایسا پیغام ہے جس کی تصدیق تمام زمین و آسمان کررہے ہیں۔ وہ ایسے خدا کی طرف بلاتا ہے جو اپنی کائناتی تخلیقات میں ہر طرف انتہائی حد تک نمایاں ہے۔ وہ ایسی آخرت کی خبر دیتاہے جو زمین وآسمان میں اس طرح سنگین حقیقت بنی ہوئی ہے جس طرح کسی ماں کے پیٹ میں پورا حمل۔ لوگ حق کے بارے میں سنجیدہ نہیں، اس ليے حق کی خاطر جان کھپانے والا انھیں مجنون دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ حق کی قدر وقیمت کو جانتے تو کبھی ایسا نہ کہتے۔
’’قیامت کس تاریخ کو آئے گی‘‘۔ اس قسم کے سوالات غیر سنجیدہ ذہن سے نکلے ہوئے سوالات ہیں۔ قیامت کو ماننے کا انحصار قیامت کے حق میں اصولی دلیل پر ہے، نہ کہ اس بات پر کہ قیامت کی تاریخ متعین صورت میں بتادی جائے۔ جب یہ دنیا دارالامتحان ہے تو یہاں قیامت کو تنبیہہ کی زبان میں بتایا جائے گا ، نہ کہ حسابی تعینات کی زبان میں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →