فَخَلَفَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٞ وَرِثُواْ ٱلۡكِتَٰبَ يَأۡخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا ٱلۡأَدۡنَىٰ وَيَقُولُونَ سَيُغۡفَرُ لَنَا وَإِن يَأۡتِهِمۡ عَرَضٞ مِّثۡلُهُۥ يَأۡخُذُوهُۚ أَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِم مِّيثَٰقُ ٱلۡكِتَٰبِ أَن لَّا يَقُولُواْ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡحَقَّ وَدَرَسُواْ مَا فِيهِۗ وَٱلدَّارُ ٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ
And there followed them successors who inherited the Scripture [while] taking the commodities of this lower life and saying, "It will be forgiven for us." And if an offer like it comes to them, they will [again] take it. Was not the covenant of the Scripture taken from them that they would not say about Allah except the truth, and they studied what was in it? And the home of the Hereafter is better for those who fear Allah, so will you not use reason
During the time of Moses, Jews were given the commandments of God, the event having taken place at the foot of a hill. At that time such conditions were created that the Jews felt as if the hill was about to fall on them. This was to impress upon them that giving a pledge to God was a very serious matter, and that if they did not fulfil the conditions of the pledge, they had to remember that the other party to this pledge was that majestic Being who, if He so desired, could cause the hill to fall on them. At that time, there were many people among the Jews who were God-fearing and righteous in their deeds. But, later on, they gradually adopted the world as the goal of their life. They started accumulating wealth without having any scruples about its being legitimate or otherwise. Even then, they used to read the Holy Book, but by means of self-devised interpretations, they gave it such a colour that God Himself appeared to be supporting their rebellious way of life. Their insensitiveness increased to the extent that they took satisfaction in declaring, ‘We are a pious community; we are the progeny of prophets; God will forgive us in the name of His favourite subjects.’
حضرت موسیٰ کے زمانہ میں یہود کو جب خدائی احکام ديے گئے تو اس کی کارروائی پہاڑ کے دامن میں ہوئی تھی۔اس وقت ایسے حالات پیدا كيے گئے کہ یہود کو محسوس ہوا کہ پہاڑ ان کے اوپر گرا چاہتاہے۔ یہ اس بات کا اظہار تھا کہ خدا سے عہد باندھنے کا معاملہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ اگر تم نے اس کے تقاضوں کو پورا نہ کیا تو یاد رکھو کہ اس عہد کا دوسرا فریق وہ عظیم ہستی ہے جو چاہے تو پہاڑ کو تمھارے اوپر گرا کر تمھیں ہلاک کردے۔
اس وقت یہود میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو اللہ سے ڈرنے والے اور نیک عمل کرنے والے تھے۔ مگر بعد کو دھیرے دھیرے انھوںنے دنیا کو اپنا مقصود بنا لیا۔ وہ جائز ناجائز کا فرق كيے بغیر مال جمع کرنے میں لگ گئے۔ آسمانی کتاب کو اب بھی وہ پڑھتے تھے مگر اس کی تعلیمات کی خود ساختہ تاویلیں کرکے اس کو انھوںنے ایسا بنا لیا کہ خدا بھی ان کو اپنی باغیانہ زندگی کا حامی نظرآنے لگا۔ ان کی بے حسی یہاں تک بڑھی کہ وہ یہ کہہ کر مطمئن ہوگئے کہ ہم برگزیدہ امت ہیں ۔ ہم نبیوں کی اولاد ہیں۔ خدا اپنے محبوب بندوں کے صدقے میں ہم کو ضرور بخش دے گا۔
یہی واقعہ ہر نبی کی امت کے ساتھ پیش آتاہے۔ ابتدائی دور میں اس کے افراد خدا سے ڈرنے والے اور نیک عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔ مگر اگلی نسلوںمیں یہ روح (spirit)نکل جاتی ہے۔ وہ دوسرے دنیا دار لوگوں کی طرح ہوجاتے ہیں۔ ان کے درمیان اب بھی دین موجود ہوتا ہے۔ خدا کی کتاب اب بھی ان کے یہاں پڑھی پڑھائی جاتی ہے۔ مگر یہ سب قومی وراثت کے طورپر ہوتاہے، نہ کہ حقیقۃً عہد خداوندی کے طورپر۔ وہ عملاً آخرت کو بھول کر دنیا پرستی کی راہ میں چل پڑتے ہیں۔ وہ صحیح اور غلط سے بے نیاز ہو کر اپنی خواہشوں کو اپنا مذہب بنا لیتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ ان کو یہ بھی فخر ہوتا ہے کہ وہ افضل الامم ہیں۔ وہ محبوبِ خدا کے امتی ہیں۔ وہ آسمانی کتاب کے وارث ہیں۔ کلمہ توحید کی برکت سے وہ ضرور بخش ديے جائیں گے۔
مگر اصل چیز یہ ہے کہ آدمی خدا کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑے، وہ نماز کو قائم کرے۔ اور کتاب الٰہی کو پکڑنے اور نماز کو قائم کرنے کا معیار یہ ہے کہ آدمی ’’مصلح‘‘ بن گیا ہو۔ خدا کی کتاب سے تعلق اور خدا کی عبادت کرنا آدمی کو مصلح بناتا ہے، نہ کہ مفسد۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →