قَالَ رَبِّ ٱغۡفِرۡ لِي وَلِأَخِي وَأَدۡخِلۡنَا فِي رَحۡمَتِكَۖ وَأَنتَ أَرۡحَمُ ٱلرَّـٰحِمِينَ
[Moses] said, "My Lord, forgive me and my brother and admit us into Your mercy, for You are the most merciful of the merciful
When Moses came down from the Mountain and saw the Israelites worshipping the golden calf, he held Aaron responsible for this, under the impression that he had neglected his duty as a reformer. Moses caught hold of him in anger but Aaron clarified his position and told him that he had done all he could to show them the right path. But they had not listened to him. So Moses checked himself, and started praying to God for Aaron. Many misunderstandings take place between believers, but after clarification they return to normalcy, just as if no misunderstanding had ever taken place.
بنی اسرائیل کے گروہ میں اس وقت سامری نام کا ایک بہت شاطر آدمی تھا۔ حضرت موسیٰ جب بنی اسرائیل کو حضرت ہارون کی نگرانی میں چھوڑ کر پہاڑ پر چلے گئے تو اس نے لوگوں کو بہکایا۔ اس نے لوگوں سے زیورات لے کر ان کو بچھڑے کی صورت میں ڈھال دیا۔ بت گری کے قدیم مصری فن کے مطابق بچھڑے کی یہ مورت اس طرح بنائی گئی تھی کہ جب اس کے اندر سے ہوا گزرے تو اس کے منھ سے خُوار (بیل کی ڈکار کی سی آواز) آ ئے۔ لوگ عام طورپر عجوبہ پسند ہوتے ہیں۔ چنانچہ اتنی سی بات پر بہت سے لوگ شبہ میں پڑ گئے اور اس کے بارے میں خدائی تصور قائم کرلیا۔ ایک شاطر آدمی نے کچھ عوامی باتیں کرکے بھیڑ کی بھیڑ اپنے گرد جمع کرلی۔ اس کا زور اتنا بڑھا کہ حضرت ہارون اور اغلباً ان کے چند ساتھیوں کے سوا کوئی کھلم کھلا احتجاج کرنے والا بھی نہ نکلا۔ ظاہر ہے کہ جس عوامی طوفان میں پیغمبر کے نائب کی آواز دب جائے وہاں کیسے کوئی بولنے کی جرأت کرسکتا ہے۔
عوام کا ذوق ہر زمانہ میں یہی رہا ہے اور آج بھی وہ پوری طرح موجود ہے۔ آج بھی ایک ہوشیار آدمی اپنی تقریروں اور تحریروں سے کسی نہ کسی ’’خوار‘‘ پر لوگوں کی بھیڑ جمع کرلیتاہے۔ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ جس چیز کے گرد وہ جمع ہورہے ہیں وہ محض ایک تماشا ہے، نہ کہ فی الواقع کوئی حقیقت۔ کوئی سنجیدہ آدمی اگر اس تماشے کی حقیقت کو کھولتا ہے تو اس کا وہی انجام ہوتاہے جو بنی اسرائیل کے درمیان حضرت ہارون کا ہوا۔
حضرت موسی نے جب دیکھا کہ بنی اسرائیل مشرکانہ فعل میں مشغول ہیں تو ان کو گمان ہوا کہ حضرت ہارون نے اصلاح کے سلسلہ میں کوتاہی کی ہے۔ چنانچہ غصہ میںانھیں پکڑ لیا۔ مگر جیسے ہی انھوں نے بتایا کہ انھوںنے اپنی اصلاحی کوشش میں کوئی کمی نہ کی تھی تو ان کے بیان کے بعد فوراً رک گئے اور اپنے لیے اور حضرت ہارون کے ليے خدا سے دعا کرنے لگے — ایک مومن کو دوسرے مومن کے بارے میں بڑی سے بڑی غلط فہمی ہوسکتی ہے مگر معاملہ کی وضاحت کے بعد وہ ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کو غلط فہمی پیدا ہی نہیں ہوئی تھی۔