قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ إِنِّي ٱصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى ٱلنَّاسِ بِرِسَٰلَٰتِي وَبِكَلَٰمِي فَخُذۡ مَآ ءَاتَيۡتُكَ وَكُن مِّنَ ٱلشَّـٰكِرِينَ
[Allah] said, "O Moses, I have chosen you over the people with My messages and My words [to you]. So take what I have given you and be among the grateful
Moses wanted to see God, but when he learnt that it was not possible to do so, he turned to God in repentance and reposed his faith in God, the unseen. Thus man is put to the test of believing in God without seeing Him. Seeing God is a reward reserved for the Hereafter, so how is it possible to see God in this present world? Moses received his first prophetic call on the mountainside. The next time he was again called to the mountain to receive the commands of the Torah. This is an indication that the best place to receive divine inspiration is the environment of nature rather than that of human society. Where man emerges from the hubbub of this noisy world of human beings and reaches the quiet world of the trees, mountains and rivers, he begins to feel himself closer to God. His mind is free from mundane problems; it is not preoccupied with worldly thoughts, so this is the best moment for him to think without any bias or complexes which might affect his thinking. Then he can be in true communion with God.
حضرت موسیٰ کو پہلی بار نبوت پہاڑ کے اوپر ملی تھی اور دوسری بار بھی تورات کے احکام ان کو پہاڑ پر بلا کر ديے گئے۔ یہ اس بات کا ایک اشارہ ہے کہ خدا کافیضان حاصل کرنے کی سب سے زیادہ موزوں جگہ فطرت کا ماحول ہے، نہ کہ انسانی آبادیوں کا ماحول۔ انسانوں کی پرشور دنیا سے نکل کر آدمی جب پتھروں اور درختوں کی خاموش دنیا میں پہنچتاہے تو وہ اپنے آپ کو خدا کے قریب محسوس کرنے لگتاہے۔ وہ مصنوعی احساسات سے خالی ہو کر اپنی فطری حالت پر پہنچ جاتا ہے۔ یہ کسی آدمی کے ليے بہترین لمحہ ہوتا ہے جب کہ وہ بے آمیز فطری انداز میں سوچے اور یکسو ہو کر اپنے رب سے جُڑ سکے۔
پیغمبر عام انسانوں میں سے ایک انسان ہوتاہے۔ وہ کسی بھی اعتبار سے کوئی غیر انسانی مخلوق نہیں ہوتا۔ اس کی خصوصیت صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی پیدائشی استعداد کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوجاتا ہے، اس ليے خدا اس کو چنتاہے کہ وہ اس کے پیغام کا حامل بنے اور لوگوں کے درمیان اس کی قابلِ اعتماد نمائندگی کرے۔ حضرت موسیٰ اس وقت اپنی قوم کے بہترین شخص تھے اس ليے خدا نے ان کو اپنا پیغمبر چنا اور ان پر اپنا کلام اتارا۔
خدا کے كلام میں اگر چہ ہدایت سے متعلق ہر قسم کی ضروری تفصیل موجود ہوتی ہے مگر وہ الفاظ میں ہوتی ہے اور موجودہ امتحانی دنیا میں بہر حال اس کا امکان باقی رہتاہے کہ آدمی ان الفاظ کی غلط تشریح کرکے اس کو غیر مطلوب معنی پہنا دے۔ مگر جو شخص ہدایت کے معاملے میں سنجیدہ ہو اور خدا کی پکڑ سے ڈرتا ہو وہ ان الفاظ سے وہی معنی لے گا جو کلام الٰہی کے شایانِ شان ہے، نہ کہ وہ جو اس کے نفس کو مرغوب ہے۔
’’میں عنقریب تم کو نافرمانوں کا گھر دکھاؤں گا‘‘، یعنی اپنے اس سفر میں آگے چل کر تم ان قوموں کے کھنڈرات سے گزروگے جنھیں اس سے پہلے خدا کی ہدایت دی گئی تھی۔ مگروہ اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے میں ناکام ثابت ہوئے۔ حالات کے دباؤ یا جذبات کے میلان کو نظرانداز کرکے وہ اس پر ٹھیک طرح قائم نہ رہ سکے۔ چنانچہ ان کا انجام یہ ہوا کہ وہ ہلاک کرديے گئے۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تمھارا انجام بھی دنیا وآخرت میں وہی ہوگا جو ان پچھلی قوموں کا ہوا۔ خدا کا معاملہ جیسا ایک قوم کے ساتھ ہے ویسا ہی معاملہ دوسری قوم کے ساتھ ہے۔ عدل الٰہی کی میزان میں ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
اس دنیا میں یہ موقع ہے کہ آدمی اپنی خود ساختہ تشریح سے خدا کے احسن کلام کا کوئی غیر احسن مفہوم نکال لے۔ مگر یہ ایسی جسارت ہے جو فرماں برداری کے دعوے دار کو بھی نافرمانوں کی فہرست میں شامل کردیتی ہے۔