تِلۡكَ ٱلۡقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ أَنۢبَآئِهَاۚ وَلَقَدۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَمَا كَانُواْ لِيُؤۡمِنُواْ بِمَا كَذَّبُواْ مِن قَبۡلُۚ كَذَٰلِكَ يَطۡبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلۡكَٰفِرِينَ
Those cities - We relate to you, [O Muhammad], some of their news. And certainly did their messengers come to them with clear proofs, but they were not to believe in that which they had denied before. Thus does Allah seal over the hearts of the disbelievers
God has blessed man with the powers of observation, hearing and thinking, so that he may learn lessons and, with their help, may understand the signs of God. But when a man does not utilize these powers for the purpose for which they were intended, then it inevitably happens that the sensitivity of his heart starts waning until his feelings become blunted; the seal of insensitivity is thus fixed on his heart and mind. Now, his position becomes that of one who does not see in spite of having eyes, does not hear in spite of having ears and does not understand in spite of having a mind; and in spite of being a human being, he loses his humanity. The human race began with the followers of Adam. Thereafter, when they fell into wrong ways, the prophets of God came to admonish them. Now those who reformed themselves on the advent of the prophets were saved and those who refused to be reformed were destroyed. Again the following generations forgot the vows of submission to God made to their prophets, and they suffered the same consequences as those of the later generations of Adam’s followers. Such a state of affairs has occurred again and again, so much so that the history of the greater part of the human race has become that of disobedience and the breaking of pledges.
زمین پر بار بار یہ واقعہ ہوتا ہے کہ ایک قوم کو یہاں عزت اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس پر زوال آتاہے ۔ وہ میدان سے ہٹا دی جاتی ہے اور اس کی جگہ دوسری قوم عزت اور خوش حالي کے تمام مقامات پر قابض ہوجاتی ہے۔
یہ واقعہ خدا کی ایک نشانی ہے۔ وہ آدمی کو خدا کی یاد دلانے والا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ ملنے یا نہ ملنے کے سرے کسی بالا تر ہستی کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس کو چاہے دے اور جس سے چاہے چھین لے۔ خدا نے انسان کو دیکھنے اور سمجھنے کی جو طاقت دی ہے اس کو کام میں لاکر وہ بآسانی اس حقیقت کو سمجھ سکتاہے۔ وہ جان سکتاہے کہ اصل سرچشمہ اگر کسی اور کے ہاتھ میں نہ ہوتا تو جو گروہ ایک بار غالب آجاتا وہ کبھی دوسرے کو اوپر آنے نہ دیتا۔ آدمی اگر اس قسم کا سبق لے تو قوموں کے عروج وزوال میں اس کو ربانی غذا ملے گی۔ مگر جب بھی ایک قوم پیچھے ہٹتی ہے اور اس کی جگہ دوسری قوم اوپر آتی ہے تو اس کے افراد اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ پچھلی قوم کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ صرف پچھلی قوم کے ليے تھا، ہمارے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔
خدا نے آنکھ کان اور عقل کی صلاحیت انسان کو اس ليے دی ہے کہ وہ اس سے سبق لے، وہ ان کے ذریعہ خدا کے اشارات کو سمجھے۔ مگر جب آدمی اپنی ان صلاحیتوں سے وہ کام نہیں لیتا جو اس کو لینا چاهيے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایساہوتا ہے کہ خدا کے قانون کے تحت اس کے دل کی حساسیت مردہ ہونے لگتی ہے۔ یہاںتک کہ ان معاملات میں اس کے جذبات کند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس کے دل ودماغ پر بے حسی کی مہر لگ جاتی ہے۔ اب اس کا حال یہ ہوجاتاہے کہ وہ دیکھنے کے باوجود نہ دیکھے اور سننے کے باوجود نہ سنے۔ وہ عقل رکھتے ہوئے بھی باتوں کو نہ سمجھے۔ وہ انسان ہوتے ہوئے بے انسان بن جائے۔
انسانیت کا آغاز حضرت آدم کے مومنین سے ہوا۔ اس کے بعد جب بگاڑ ہوا تو یاد دہانی کے ليے خداکے پیغمبرآئے۔ اب یہ ہوا کہ پیغمبر کے ذریعے اصلاح قبول کرنے والے افراد کو بچا کر ان لوگوں کو ہلاک کردیاگیا جنھوںنے اصلاح قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ مگر بعد کی نسلیں دوبارہ اپنے پیغمبر کے ہاتھ پر كيے ہوئے عہد اسلام کوبھلا بیٹھیں اور دوبارہ وہی انجام پیش آیا جوپہلی بار مومنینِ آدم کے ساتھ پیش آیا تھا۔ یہ صورت بار بار پیش آتی رہی حتیٰ کہ نسل انسانی کی اکثریت کے ليے تاریخ نافرمانی اور عہد شکنی کی تاریخ بن گئی۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →