أَوَلَمۡ يَهۡدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ ٱلۡأَرۡضَ مِنۢ بَعۡدِ أَهۡلِهَآ أَن لَّوۡ نَشَآءُ أَصَبۡنَٰهُم بِذُنُوبِهِمۡۚ وَنَطۡبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُونَ
Has it not become clear to those who inherited the earth after its [previous] people that if We willed, We could afflict them for their sins? But We seal over their hearts so they do not hear
It happens again and again that a community reaches a high level of honour and prosperity and thereafter faces decline. It is removed from the scene and in its place another community occupies the same position of honour and prosperity that the former community enjoyed. This event is a sign of God, which should remind man of His supremacy. It shows that all the strings controlling gains and losses are in the hands of a supreme being. He may award good fortune to one or take it away from another. Making use of the powers of observation and thinking bestowed on him by God, man can easily understand these facts. He will realise that had the real source of power not been in other hands, the group which once managed to attain ascendancy would never have allowed others to replace it. If man can learn such lessons, he will find divine nourishment in the rise and fall of nations. But whenever a community falls from grace and another community rises in its place, the members of the rising community entertain the misunderstanding that whatever happened to the previous community was the fate particular to that community, and that it was never going to happen to them.
زمین پر بار بار یہ واقعہ ہوتا ہے کہ ایک قوم کو یہاں عزت اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس پر زوال آتاہے ۔ وہ میدان سے ہٹا دی جاتی ہے اور اس کی جگہ دوسری قوم عزت اور خوش حالي کے تمام مقامات پر قابض ہوجاتی ہے۔
یہ واقعہ خدا کی ایک نشانی ہے۔ وہ آدمی کو خدا کی یاد دلانے والا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ ملنے یا نہ ملنے کے سرے کسی بالا تر ہستی کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس کو چاہے دے اور جس سے چاہے چھین لے۔ خدا نے انسان کو دیکھنے اور سمجھنے کی جو طاقت دی ہے اس کو کام میں لاکر وہ بآسانی اس حقیقت کو سمجھ سکتاہے۔ وہ جان سکتاہے کہ اصل سرچشمہ اگر کسی اور کے ہاتھ میں نہ ہوتا تو جو گروہ ایک بار غالب آجاتا وہ کبھی دوسرے کو اوپر آنے نہ دیتا۔ آدمی اگر اس قسم کا سبق لے تو قوموں کے عروج وزوال میں اس کو ربانی غذا ملے گی۔ مگر جب بھی ایک قوم پیچھے ہٹتی ہے اور اس کی جگہ دوسری قوم اوپر آتی ہے تو اس کے افراد اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ پچھلی قوم کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ صرف پچھلی قوم کے ليے تھا، ہمارے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔
خدا نے آنکھ کان اور عقل کی صلاحیت انسان کو اس ليے دی ہے کہ وہ اس سے سبق لے، وہ ان کے ذریعہ خدا کے اشارات کو سمجھے۔ مگر جب آدمی اپنی ان صلاحیتوں سے وہ کام نہیں لیتا جو اس کو لینا چاهيے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایساہوتا ہے کہ خدا کے قانون کے تحت اس کے دل کی حساسیت مردہ ہونے لگتی ہے۔ یہاںتک کہ ان معاملات میں اس کے جذبات کند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس کے دل ودماغ پر بے حسی کی مہر لگ جاتی ہے۔ اب اس کا حال یہ ہوجاتاہے کہ وہ دیکھنے کے باوجود نہ دیکھے اور سننے کے باوجود نہ سنے۔ وہ عقل رکھتے ہوئے بھی باتوں کو نہ سمجھے۔ وہ انسان ہوتے ہوئے بے انسان بن جائے۔
انسانیت کا آغاز حضرت آدم کے مومنین سے ہوا۔ اس کے بعد جب بگاڑ ہوا تو یاد دہانی کے ليے خداکے پیغمبرآئے۔ اب یہ ہوا کہ پیغمبر کے ذریعے اصلاح قبول کرنے والے افراد کو بچا کر ان لوگوں کو ہلاک کردیاگیا جنھوںنے اصلاح قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ مگر بعد کی نسلیں دوبارہ اپنے پیغمبر کے ہاتھ پر كيے ہوئے عہد اسلام کوبھلا بیٹھیں اور دوبارہ وہی انجام پیش آیا جوپہلی بار مومنینِ آدم کے ساتھ پیش آیا تھا۔ یہ صورت بار بار پیش آتی رہی حتیٰ کہ نسل انسانی کی اکثریت کے ليے تاریخ نافرمانی اور عہد شکنی کی تاریخ بن گئی۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →