ذَٰلِكَ بِأَنَّهُۥ كَانَت تَّأۡتِيهِمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَقَالُوٓاْ أَبَشَرٞ يَهۡدُونَنَا فَكَفَرُواْ وَتَوَلَّواْۖ وَّٱسۡتَغۡنَى ٱللَّهُۚ وَٱللَّهُ غَنِيٌّ حَمِيدٞ
That is because their messengers used to come to them with clear evidences, but they said, "Shall human beings guide us?" and disbelieved and turned away. And Allah dispensed [with them]; and Allah is Free of need and Praiseworthy
The Quran.
قدیم زمانہ میں رسولوں کے ذریعہ جو تاریخ بنی وہ انسانوں کے لیے مستقل نمونہ عبرت ہے۔ مثلاً عاد اور ثمود اور اہل مدین اور قوم لوط وغیرہ کے درمیان پیغمبر آئے۔ ان پیغمبروں کے پاس اپنی صداقت بتانے کے لیے کوئی غیر بشری کمال نہ تھا، بلکہ صرف دلیل تھی۔ دلیل کی سطح پر انکار نے ان قوموں کو عذاب کا مستحق بنا دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ دلیل کی سطح پر حق کو پہچانے۔ جو شخص دلیل کی سطح پر حق کو پہچاننے میں ناکام رہے، وہ ہمیشہ کے لیے حق سے محروم ہو کر رہ جائے گا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →