فَقَدۡ كَذَّبُواْ بِٱلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ فَسَوۡفَ يَأۡتِيهِمۡ أَنۢبَـٰٓؤُاْ مَا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ
For they had denied the truth when it came to them, but there is going to reach them the news of what they used to ridicule
Those who have firmly established themselves in this world, having accumulated many material goods for themselves, and who see the manifestations of their own greatness and popularity around them, are always liable to be a prey to misunderstanding. They look down upon the things God has gathered around the caller of Truth as compared to the things around them. This overweening confidence on their part increases to such an extent that they even become unafraid of God. They make fun of the warning given by the missionary of Truth that, if their arrogance continued, their material achievements would not be able to save them from God’s scourge. Their treatment of the dayee as a non-entity makes his warnings also insignificant. Even historic instances of God’s having destroyed materially well set up people, as if their lives were of no value whatsoever, fail to teach them a lesson. The recurrence of events in which one set of people face decline while another set rises shows that the rule of ‘crime and punishment’ is prevalent here, but man does not learn a lesson from this. The succeeding generations repeat those very same actions as were indulged in by their predecessors, due to which they were destroyed.
خدا اور آخرت کی دعوت جو خدا کی براہِ راست تائید سے اٹھی ہو اس کے ساتھ واضح علامتیں ہوتی ہیں جو اس بات کا اعلان کر رہی ہوتی ہیں کہ یہ ایک سچی دعوت ہےاور خدا كي طرف سے هے— اس كا اس فطرت كے انداز پر هونا جس پر خدا كي ابدي دنيا كا نظام قائم هے۔اس کا ایسے دلائل کی بنیاد پر اٹھنا جس کا توڑ کسی کے لیے ممکن نہ ہو۔ اس کی پشت پر ایسے داعی کا ہونا جس کی سنجیدگی اور اخلاق پر شبہ نہ کیا جاسکتا ہو۔ اس کے ساتھ ایسے تائیدی واقعات کا وابستہ ہونا کہ مخالفین اپنی برتر قوت کے باوجود اس کے خلاف اپنے تخریبی منصوبوں میں کامیاب نہ ہوئے ہوں۔ اس طرح کے واضح قرائن ہیں جو اس کے برحق ہونے کی طرف کھلا اشارہ کررہے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود انسان اس پر یقین نہیں کرتا اور اس کا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام تائیدی قرائن اپنی ساری وضاحت کے باوجود ہمیشہ اسباب کے پردہ میںظاہر ہوتے ہیں۔ آدمی کے سامنے جب یہ قرآئن آتے ہیں تو وہ ان کو مخصوص اسباب کی طرف منسوب کرکے انھیں نظر انداز کردیتا ہے، اس کا ذہن اعتراف کے رخ پر چلنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔ وہ کہتا ہے کہ یہ دعوت اگر خدا کی طرف سے ہوتی تو خدااور فرشتے برہنہ صورت میں اس کے ساتھ موجود ہوتے۔ حالاں کہ یہ خیال سراسر باطل ہے۔ کیوںکہ خدااور فرشتے جب برہنہ صورت میں سامنے آجائیں تو وہ فیصلہ کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ دعوت اور تبلیغ کا۔
جن لوگوں کو زمین میں جماؤ حاصل ہو، جنھوں نے اپنے لیے معاشی سازوسامان جمع کرلیا ہو، جن کو اپنے آس پاس عظمت ومقبولیت کے مظاہر دکھائی دیتے ہوں وہ ہمیشہ غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ اپنے گرد جمع شدہ چیزوں کے مقابلہ میں ان چیزوں کو حقیر سمجھ لیتے ہیں، جو داعی حق کے گرد خدا نے جمع کی ہیں۔ ان کی یہ خود اعتمادی اتنا بڑھتی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے بھی بے خوف ہوجاتے ہیں۔ وہ داعی حق کی اس تنبیہ کا مذاق اڑانے لگتے ہیں کہ تمھاری سرکشی جاری رہی تو تمھاری مادی ترقیاں تم کو خدا کی پکڑ سے نہ بچاسکیں گی۔ داعی حق کو ناچیز سمجھنا ان کی نظر میں داعی کی تنبیہات کو بھی ناچیز بنا دیتاہے۔ ماضی کے وہ تاریخی واقعات بھی ان کو سبق دینے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوتے جب کہ بڑے بڑے مادی استحکام کے باوجود خدانے لوگوں کو اس طرح مٹا دیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہ تھی — زمین میں بار بار ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا ابھرنا ظاہر کرتا ہے کہ یہاںمکافات کا قانون نافذ ہے۔ مگر آدمی سبق نہیں لیتا۔ پچھلے لوگ دوبارہ اسی عمل کو دہراتے ہیں جس کی وجہ سے اگلے لوگ برباد ہوگئے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →