وَهُمۡ يَنۡهَوۡنَ عَنۡهُ وَيَنۡـَٔوۡنَ عَنۡهُۖ وَإِن يُهۡلِكُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُونَ
And they prevent [others] from him and are [themselves] remote from him. And they do not destroy except themselves, but they perceive [it] not
In the present world of trial, man has every opportunity to find pretexts or justifications for anything that suits his interests. There are some who appear to listen to God’s message, but if from the outset they are prejudiced, the truth falls on deaf ears and so fails to touch their hearts. They set up mental barriers and, because of this, have no idea of their religious duties, even after they have been carefully explained to them. Arguments, no matter how clearly stated, fail to convince them because, whenever they allow anything of religious significance to cross these barriers, it is with the intention of disputing it, rather than receiving guidance from it. They have no intention of hearing or understanding anything of moral import. As a result, the relevant aspects of any such issue do not come within their mental grasp. Moreover, they are ever ready to present religious matters in a contorted manner. Correct arguments have no influence upon them. Due to their perverseness, they seek out in all ethical questions certain facts which they can misrepresent in order to delude themselves and others that they are on the right path.
موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کو یہ موقع حاصل ہے کہ وہ ہر بات کی مفید مطلب توجیہ کرسکے۔اس لیے جو لوگ تعصب کا ذہن لے کر بات سنتے ہیں ان کا حال ایسا ہوتا ہے جیسے ان کے کان بند ہوں اور ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہوں۔ وہ سن کر بھی نہیں سنتے اور بتانے کے بعد بھی نہیں سمجھتے۔ دلائل اپنی ساری وضاحت کے باوجود ان کو مطمئن کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جو کچھ سنتے ہیں مجادلہ کے ذہن سے سنتے ہیں، نہ کہ نصیحت کے ذہن سے۔ ان کے اندر بات کو سننے اور سمجھنے کا کوئی ارادہ نہیںہوتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ کسی بات کا اصل پہلو ان کے ذہن کی گرفت میں نہیں آتا۔ اس کے برعکس ہر بات کو الٹی شکل دینے کے لیے انھیں کوئی نہ کوئی چیز مل جاتی ہے۔ دلائل ان کے ذہن کا جزء نہیں بنتے۔ اپنے مخالفانہ ذہن کی وجہ سے وہ ہر بات میں کوئی ایسا پہلو نکال لیتے ہیں جس کو غلط معنی د ے کر وہ اپنے آپ کو بدستور مطمئن رکھیں کہ وہ حق پر ہیں۔
جو لوگ یہ مزاج رکھتے ہوں ان کے لیے تمام دلائل بے کار ہیں۔ کیوں کہ امتحان کی اس دنیا میں کوئی بھی دلیل ایسی نہیں جو آدمی کو اس سے روک دے کہ وہ اس کی تردید کے لیے کچھ خود ساختہ الفاظ نہ پائے۔ اگر کوئی دلیل نہ مل رہی ہو تب بھی وہ حقارت کے ساتھ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کردے گا— ’’یہ کون سی نئی بات ہے۔ یہ تو وہی پرانی بات ہے جو ہم بہت پہلے سے سنتے چلے آرہے ہیں‘‘۔ اس طرح آدمی اس کی صداقت کو مان کر بھی اس کو رد کرنے کا ایک بہانہ پالے گا۔ ایسے لوگ خدا کے نزدیک دہرےمجرم ہیں۔ کیوں کہ وہ نہ صرف خود حق سے رکتے ہیں بلکہ ایک خدائی دلیل کو غلط معنی پہنا کر عام لوگوں کی نظر میں بھی اس کو مشکوک بناتے ہیں جو اتنی سمجھ نہیں رکھتے کہ باتوں کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کرسکیں۔
دنیا کی زندگی میں اس قسم کے لوگ خوب بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے ہیں۔ دنیا میں حق کا انکار کرکے آدمی کا کچھ نہیں بگڑتا۔ اس لیے وہ غلط فہمی میں پڑا رہتاہے ۔ مگر قیامت میں جب اس کو آگ کے اوپر کھڑا کرکے پوچھا جائے گا تو ان پر ساری حقیقتیں کھل جائیں گی۔ اچانک وہ ان تمام باتوں کا اقرار کرنے لگے گا جن کو وہ دنیا میں ٹھکرا دیا کرتا تھا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →