لَا شَرِيكَ لَهُۥۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرۡتُ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلۡمُسۡلِمِينَ
No partner has He. And this I have been commanded, and I am the first [among you] of the Muslims
The system of this world is that one person goes away and another takes his place. One community is thrust aside and another community takes its place and captures the resources of the land. These incidents remind us again and again that here nobody’s dominance is permanent. But man’s behaviour is strange. When he sees some opportunity to advance himself, he forgets the fate of his forebears. He fabricates different types of arguments to justify oppression and arrogance. But when God lays bare the realities, man will see that his actions—which he had considered strong enough to justify his position—were meaningless. The reason for man’s arrogance in this world is that he thinks of the good things of this life as God’s reward. The fact is that whatever a man receives in this life is meant to be a test and not a reward. If a man considers the good things available to him in this life as his due, this will cause him to be proud, but if he considers them as a means of testing him, this will develop a sense of humility in him. While a proud mentality is marked by haughtiness, a humble attitude is marked by the willingness to obey God.
قرآن کی صورت میں خدا نے اپنا وہ بے آمیز دین نازل کردیا ہے جو اس نے حضرت ابراہیم اور دوسرے پیغمبروں کو دیا تھا۔ اب جو شخص خدا کی رحمت ونصرت میںحصہ دار بننا چاہتاہو وہ اس دین کو پکڑ لے، وہ اپنی عبادت کو خدا کے ليے خاص کردے۔ وہ خدا سے قرباني کی سطح پر تعلق قائم کرے۔ وہ جئے تو خدا کے ليے جئے اور اس کو موت آئے تو اس حال میں آئے کہ وہ ہمہ تن خدا کا بندہ بنا ہوا ہو۔ عظیم کائنات اپنے تمام اجزا کے ساتھ اطاعت خداوندی کے اسی دین پر قائم ہے۔ پھر انسان اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ کیسے اختیار کرسکتاهے۔ خدا کی اطاعت کی دنیا میں خدا کی سرکشی کا طریقہ اختیار کرنا کسی کے ليے کامیابی کا سبب کس طرح بن سکتا ہے۔ یہ معاملہ ہر شخص کا اپنا معاملہ ہے، کوئی نہ کسی کے انعام میں شریک ہوسکتا اور نہ کوئی کسی کی سزا میں آدمی کو چاہیے کہ اس معاملہ میں وہ اسی طرح سنجیدہ ہو جس طرح دنیا میں کوئی مسئلہ کسی کا ذاتی مسئلہ ہو تو وہ اس میں آخری حد تک سنجیدہ ہوجاتا ہے۔
دنیا کا نظام یہ ہے کہ یہاں ایک شخص جاتاہے اور دوسرا اس کی جگہ آتا ہے۔ ایک قوم پیچھے ہٹا دی جاتی ہے اور دوسری قوم اس کے بجائے زمین کے ذرائع ووسائل پر قبضہ کرلیتی ہے۔ یہ واقعہ بار بار یاد دلاتا ہے کہ یہاں کسی کا ااقتدار دائمی نہیں۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ جس کسی کو زمین پر موقع ملتاہے تو وہ گزرے ہوئے لوگوں کے انجام کو بھول جاتاہے۔ وہ اپنے ظلم اور سرکشی کو جائز ثابت کرنے کے ليے طرح طرح کے دلائل گھڑ لیتا ہے مگر جب خدا حقیقتوں کو برہنہ کرے گا تو آدمی دیکھے گا کہ اس کی ان باتوں کی کوئی قیمت نہ تھی، جن کو وہ اپنے موقف کے جواز کے ليے مضبوط دلیل سمجھے ہوئے تھا۔
دنیا میں آدمی کی سرکشی کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ وہ دنیا کی چیزوں کو اپنے حق میں خدا کا انعام سمجھ ليتاہے ہے۔ حالاں کہ دنیا میں جو کچھ کسی کو ملتاہے وہ صرف بطور آزمائش ہے، نہ کہ بطور انعام۔ دنیا کی چیزوں کو آدمی اگر انعام سمجھے تو اس کے اندر فخر پیدا ہوگا اور اگر وہ ان کو آزمائش سمجھے تو اس کے اندر عجز پیدا ہوگا۔ فخر کی نفسیات ڈھٹائی پیدا کرتی ہے اور عجز کی نفسیات اطاعت۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →