قُلۡ إِنَّنِي هَدَىٰنِي رَبِّيٓ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ دِينٗا قِيَمٗا مِّلَّةَ إِبۡرَٰهِيمَ حَنِيفٗاۚ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ
Say, "Indeed, my Lord has guided me to a straight path - a correct religion - the way of Abraham, inclining toward truth. And he was not among those who associated others with Allah
In the pages of the Quran, God has revealed His religion in the uncorrupted state in which He had given it to Abraham and other prophets. Now, one who wants to be blessed by the Grace of God and His support should adopt this religion. He should dedicate his prayers to God; he should have a relation with God at the level of sacrifice; if he lives, he should live for the sake of God, and when he is overtaken by death, he should by that time have unreservedly become a subject of God, in body and soul. The vast universe with its heavenly bodies follows this religion of obedience to God. Then, how can a man adopt a path other than this? In the world of obedience to God, how can arrogance directed against God lead to success? This is a matter which concerns every individual. Nobody can share another’s reward or suffer another’s punishment. The individual should be as serious about this as he is about all matters which concern him personally.
قرآن کی صورت میں خدا نے اپنا وہ بے آمیز دین نازل کردیا ہے جو اس نے حضرت ابراہیم اور دوسرے پیغمبروں کو دیا تھا۔ اب جو شخص خدا کی رحمت ونصرت میںحصہ دار بننا چاہتاہو وہ اس دین کو پکڑ لے، وہ اپنی عبادت کو خدا کے ليے خاص کردے۔ وہ خدا سے قرباني کی سطح پر تعلق قائم کرے۔ وہ جئے تو خدا کے ليے جئے اور اس کو موت آئے تو اس حال میں آئے کہ وہ ہمہ تن خدا کا بندہ بنا ہوا ہو۔ عظیم کائنات اپنے تمام اجزا کے ساتھ اطاعت خداوندی کے اسی دین پر قائم ہے۔ پھر انسان اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ کیسے اختیار کرسکتاهے۔ خدا کی اطاعت کی دنیا میں خدا کی سرکشی کا طریقہ اختیار کرنا کسی کے ليے کامیابی کا سبب کس طرح بن سکتا ہے۔ یہ معاملہ ہر شخص کا اپنا معاملہ ہے، کوئی نہ کسی کے انعام میں شریک ہوسکتا اور نہ کوئی کسی کی سزا میں آدمی کو چاہیے کہ اس معاملہ میں وہ اسی طرح سنجیدہ ہو جس طرح دنیا میں کوئی مسئلہ کسی کا ذاتی مسئلہ ہو تو وہ اس میں آخری حد تک سنجیدہ ہوجاتا ہے۔
دنیا کا نظام یہ ہے کہ یہاں ایک شخص جاتاہے اور دوسرا اس کی جگہ آتا ہے۔ ایک قوم پیچھے ہٹا دی جاتی ہے اور دوسری قوم اس کے بجائے زمین کے ذرائع ووسائل پر قبضہ کرلیتی ہے۔ یہ واقعہ بار بار یاد دلاتا ہے کہ یہاں کسی کا ااقتدار دائمی نہیں۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ جس کسی کو زمین پر موقع ملتاہے تو وہ گزرے ہوئے لوگوں کے انجام کو بھول جاتاہے۔ وہ اپنے ظلم اور سرکشی کو جائز ثابت کرنے کے ليے طرح طرح کے دلائل گھڑ لیتا ہے مگر جب خدا حقیقتوں کو برہنہ کرے گا تو آدمی دیکھے گا کہ اس کی ان باتوں کی کوئی قیمت نہ تھی، جن کو وہ اپنے موقف کے جواز کے ليے مضبوط دلیل سمجھے ہوئے تھا۔
دنیا میں آدمی کی سرکشی کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ وہ دنیا کی چیزوں کو اپنے حق میں خدا کا انعام سمجھ ليتاہے ہے۔ حالاں کہ دنیا میں جو کچھ کسی کو ملتاہے وہ صرف بطور آزمائش ہے، نہ کہ بطور انعام۔ دنیا کی چیزوں کو آدمی اگر انعام سمجھے تو اس کے اندر فخر پیدا ہوگا اور اگر وہ ان کو آزمائش سمجھے تو اس کے اندر عجز پیدا ہوگا۔ فخر کی نفسیات ڈھٹائی پیدا کرتی ہے اور عجز کی نفسیات اطاعت۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →