وَجَعَلُواْ لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ ٱلۡحَرۡثِ وَٱلۡأَنۡعَٰمِ نَصِيبٗا فَقَالُواْ هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعۡمِهِمۡ وَهَٰذَا لِشُرَكَآئِنَاۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمۡ فَلَا يَصِلُ إِلَى ٱللَّهِۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَآئِهِمۡۗ سَآءَ مَا يَحۡكُمُونَ
And the polytheists assign to Allah from that which He created of crops and livestock a share and say, "This is for Allah," by their claim, "and this is for our partners [associated with Him]." But what is for their "partners" does not reach Allah, while what is for Allah - this reaches their "partners." Evil is that which they rule
Man invents tangible deities because he does not have full faith in the intangible Supreme Being—God. In ancient times polytheists did, however, pay lip service to God, while reserving their real faith for their deities. This was evident from the inequitable way in which they apportioned their sacrificial offerings of grain and livestock to their deities on the one hand, and to God on the other. It was always the deities who were given preference in terms of the quantity and quality of the offerings, and never God. Moreover, when those who in reality are idolaters are ‘worshipping’ God, they devote a part of their prayers to that person, living or dead, whom they idolize. But when they worship the latter, they do not even mention the name of God. They will readily lavish upon a partner that ecstatic devotion which they should reserve for God. In any meeting held to extoll God’s greatness, the majesty and glory of the partner will somehow find a place; but in any meeting held to describe the greatness of the partner, there will be absolutely no mention of the majesty and glory of God. The importance of the ‘partner’ sometimes dominates minds to such an extent that a man will with pleasure sacrifice even his children for it—something which he will not do for the sake of God. All such acts are carried out in the name of God’s religion, but falsely so, because this amounts to attributing to God such precepts as had never been laid down by Him.
مشرکین میں یہ رواج تھا کہ وہ فصل اور مویشی میں سے اللہ کا اور بتوں کا حصہ نکالتے۔ اگر وہ دیکھتے کہ خدا کے حصہ کا جانور یا غلہ اچھا ہے تو ا س کو بدل کر بتوں کی طرف کردیتے۔ مگر بتوں کا اچھا ہوتا تو اس کو خدا کی طرف نہ کرتے۔پیداوار کی تقسیم کے وقت بتوں کے نام کا کچھ حصہ اتفاقاً اللہ کے حصہ میں مل جاتا تو اس کو الگ کرکے بتوں کی طرف لوٹا دیتے۔ اور اللہ کے نام کا کچھ حصہ بتوں کی طرف چلا جاتا تو اس کو نہ لوٹاتے۔ اسی طرح اگر کبھی نذر ونیاز کا غلہ خود استعمال کرنے کی ضرورت پیش آجاتی تو خدا کا حصہ لے لیتے مگر بتوں کے حصہ کو نہ چھوتے۔ وہ ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی بلا نازل ہوجائے۔ کہنے کے ليے وہ خدا کو مانتے تھے مگر ان کا اصل یقین اپنے بتوں کے اوپر تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی محسوس بتوں کو اسی ليے گھڑتا ہے کہ اس کو غیر محسوس خدا پر پورا بھروسہ نہیں ہوتا۔
یہی حال ہر اس شخص کا ہوتا ہے جو زبان سے تو اللہ کو مانتا ہومگر اس کا دل اللہ کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو۔ جو لوگ کسی زندہ یا مردہ ہستی کو اپنی عقیدتوں کا مرکز بنالیں ان کا حال بھی یہی ہوتا ہے کہ جو وقت ان کے یہاں خدا کی یاد کا ہے اس میں تو وہ اپنے ’’شریک‘‘ کی یاد کو شامل کرلیتے ہیں۔ مگر جو وقت ان کے نزدیک اپنے شریک کی یاد کا ہے اس میں خدا کا تذکرہ انھیں گوارا نہیں ہوتا۔ شیفتگی اور وارفتگی کا جو حصہ خدا کے لیے ہونا چاہیے اس کا کوئی جزء وہ بآسانی اپنے شریکوں کو دے دیں گے۔ مگر اپنے شریک کے ليے وہ جس شیفتگی اور وارفتگی کو ضروری سمجھتے ہیں اس کا کوئی حصہ کبھی خدا کو نہیں پہنچے گا۔ جو مجلس خدا کی عظمت وکبریائی بیان کرنے کے ليے منعقد کی جائے اس میں ان کے شریکوں کی عظمت وکبریائی کا بیان تو کسی نہ کسی طرح داخل ہوجائے گا۔ مگر جو مجلس اپنے شریکوں کی عظمت و کبریائی کا چرچا کرنے کے ليے ہو وہاں خدا کی عظمت وکبریائی کا کوئی گزر نہ ہوگا۔
ان شریکوں کی اہمیت کبھی ذہن پر اتنا زیادہ غالب آتی ہے کہ آدمی اپنی اولاد تک کو اس کے ليے نثار کردیتا ہے۔ اپنی اولاد کو خدا کے ليے پیش کرنا ہو تو وہ پیش نہیں کرے گا مگر اپنے شریکوں کی خدمت میں انھیں دینا ہو تو وہ بخوشی اس کے ليے آمادہ ہوجاتا ہے۔
اس قسم کی تمام چیزیں خدا کے دین کے نام پر کی جاتی ہیں مگر حقیقۃً وہ افترا ہیں۔ کیوں کہ وہ ایک ایسی چیز کو خدا کی طرف منسوب کرنا ہے جس كا حكم خدا نے نهيں ديا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →