فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
So which of the favors of your Lord would you deny
The present world is a place of trial. So long as the period of testing lasts, everybody has the opportunity to be as arrogant as he pleases. But, in spite of this complete freedom, no jinn or human being has the power to go beyond the limits of the universe. This fact itself is enough to prove that man is completely in the grip of God. On the expiry of the test period, when He starts seizing hold of people, it will not be possible for anybody to save himself.
دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں ہر چیز فنا پذیر ہے۔ اشیاء کا فنا پذیری کے باوجود موجود ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ ان کا خالق اور منتظم غیر فانی ہے۔ اگر وہ غیر فانی نہ ہوتا تو اشیاء کا وجود ہی نہ ہوتا ۔یا اگر ہوتا تو اب تک ان کا وجود مٹ چکا ہوتا۔
دنیا کا مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ دنیا کی کسی چیز کے اندر تخلیق کی طاقت نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اشیاء اپنی بقا کے لیے جن چیزوں کی محتاج ہیں وہ ان کی اپنی پیدا کردہ نہیں ہیں۔یہ واقعہ دوبارہ خالق کی بے پایاں قدرت کو بتاتا ہے۔ یہ حقیقتیں اتنی واضح ہیں کہ کسی سنجیدہ آدمی کے لیے ان کا انکار ممکن نہیں۔
خدا کی نشانیاں اس دنیا میں اتنی زیادہ ہیں کہ ایک سنجیدہ انسان کے لیے ان کو نظر انداز کرنا کسی طرح ممکن نہیں۔ مگر انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ نشانیوں کے ہجوم میں بھی ان نشانیوں کا انکار کرتا ہے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →