مَآ أُرِيدُ مِنۡهُم مِّن رِّزۡقٖ وَمَآ أُرِيدُ أَن يُطۡعِمُونِ
I do not want from them any provision, nor do I want them to feed Me
A pail when being filled with water sinks in water the moment it is full. Similarly, when the time given to a man to perform his life’s work is over, he dies immediately. One who reforms himself before the overflowing of the pail may save himself, but one who remains careless and negligent till the last moment faces destruction. If transgressors are not immediately seized upon, they should not imagine that they have been left free to do as they choose. They go free because it is not God’s way to catch hold of human beings in haste. It is certainly not because God has no plan ever to bring them to book.
خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے، اپنے آپ کوپوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔
اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔ چنانچہ ابن عباس نے الا لیعبدون کی تشریح الا لیعرفون سے کی ہے(المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر
225
)۔ یہی تفسیر ابن جُرَیج (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ
425
) اور مجاہد تابعی (البحر المحيط، جلد 9، صفحہ
562
) نے بھی کی ہے۔یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے۔ وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔
پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے اسی طرح آدمی کی مہلت عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اس کی موت آجاتی ہے۔ جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلے اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا وہ ہلاک ہوگیا۔
ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جارہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ اس لیے کہ خدا انہیں پکڑنے والا نہیں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →