وَفِي مُوسَىٰٓ إِذۡ أَرۡسَلۡنَٰهُ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٖ
And in Moses [was a sign], when We sent him to Pharaoh with clear authority
The Pharaoh of Egypt called the miracles of Moses magical feats. He interpreted Moses’s firm belief (which indicated the latter’s being on the right path) as madness. This is known as covering up (talbis) and this covering up has always been the way of those people who are not ready to accept the Truth, in spite of its being supported by sound reasoning.
فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔
حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →