وَحَسِبُوٓاْ أَلَّا تَكُونَ فِتۡنَةٞ فَعَمُواْ وَصَمُّواْ ثُمَّ تَابَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡ ثُمَّ عَمُواْ وَصَمُّواْ كَثِيرٞ مِّنۡهُمۡۚ وَٱللَّهُ بَصِيرُۢ بِمَا يَعۡمَلُونَ
And they thought there would be no [resulting] punishment, so they became blind and deaf. Then Allah turned to them in forgiveness; then [again] many of them became blind and deaf. And Allah is Seeing of what they do
God had taken the pledge of faith and obedience from the Jews through Moses. They fulfilled this pledge for just a few days. Thereafter, their behaviour started deteriorating. Then, God raised reformers among them to remind them of their pledge. But their waywardness and arrogance went on increasing. They went to the extent of silencing the admonishers themselves, and killed many people. When their arrogance went beyond all limits, God caused them to be subjected to the rule of Nebuchadnezzar, the ruler of Babylon and Nineveh (Iraq). He attacked and destroyed their holy city of Jerusalam in 586 B.C., and enslaving the Jews, he took them to his country as bonded labour. After this event, the hearts of the Jews were softened and they sought God’s pardon. Now, God helped them through Cyrus (the King of Iran) who captured their area in 539 B.C. by attacking the Chaldeans and defeating them. Thereafter, he freed the Jews from their exile and allowed them to go back to their country and settle there. Now, the Jews got a new lease of life and progressed considerably, but after a very short time they once again fell into the ways of recklessness and arrogance. Again, God warned them through prophets and reformers, but they did not come to their senses. They went to the extent of killing John (Yahya) and also a man whom they understood to be Jesus. Now, the wrath of God broke loose on them and, in the year 70 A.D., they were defeated by the Roman Emperor, Titus, who attacked their country and destroyed them. After this, the Jews could never stand on their own.
یہود سے اللہ نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ ایمان واطاعت کا عہد لیا تھا۔وہ کچھ دن اس پر قائم رہے۔ اس کے بعد ان میں بگاڑ شروع ہوگیا۔ اب اللہ نے ان کے درمیان اپنے مصلحین اٹھائے جو ان کو اپنے عہد کی یاد دہانی کریں۔ مگر یہود کی بے راہی اور سرکشی بڑھتی ہی چلی گئی۔ انھوں نے خود نصیحت کرنے والوں کی زبان بند کرنے کی کوشش کی۔ حتی کہ کتنے لوگوں کو قتل کردیا۔ جب ان کی سرکشی حد کو پہنچ گئی تو اللہ نے بابل ونینویٰ (عراق) کے بادشاہ بنو خذ نصر کو ان کے اوپر مسلط کردیا جس نے
586
ق م میں یروشلم پر حملہ کرکے یہود کے مقدس شہر کو ڈھا دیا۔ اور یہودیوںکو گرفتار کرکے اپنے ملک لے گیا تاکہ ان سے بیگار لے۔ اس واقعہ کے بعد یہود کے دل نرم ہوئے۔ انھوںنے اللہ سے معافی مانگی۔ اب اللہ نے سائرس (شاہ ایران) کے ذریعہ ان کی مدد کی۔ سائرس نے
539
ق م میں کلدانیوں کے اوپر حملہ کیا اور ان کو شکست دے کر ان کے ملک پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اس نے یہود کو جلاوطنی سے نجات دلا کر ان کو ان کے وطن جانے اور وہاں دوبارہ بسنے کی اجازت دے دی۔
اب یہود کو نئی زندگی ملی اور ان کو کافی فروغ حاصل ہوا۔ مگر کچھ دنوں کے بعد وہ دوبارہ غفلت اور سرکشی میںمبتلا ہوئے۔ اب پھر نبیوں اور مصلحین کے ذریعہ اللہ نے ان کو متنبہ کیا۔ مگر وہ ہوش میں نہ آئے، یہاں تک کہ انھوںنے حضرت یحییٰ کو قتل کردیا اور (اپنی حد تک) حضرت مسیح کو بھی۔ اب اللہ کا غضب ان پر بھڑکا اور 70 عیسوی میں رومی شہنشاہ ٹائٹس کو ان پر مسلط کردیاگیا۔ جس نے ان کے ملک پر حملہ کرکے ان کو ویران کردیا۔ اس کے بعد یہود کبھی اپنی ذاتی بنیادوں پر کھڑے نہ ہوسکے۔
آسمانی کتاب کی حامل قوموں کی نفسیات بعدکے زمانہ میں یہ بن جاتی ہے کہ وہ خدا کے خاص لوگ ہیں۔ وہ جو کچھ بھی کریں اس پر ان کی پکڑ نہیں ہوگی۔ خدا کی تعلیمات میں اس عقیدہ کے خلاف کھلے کھلے بیانات ہوتے ہیں۔ مگر وہ ان کے بارے میں اندھے بہرے بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے گرد خود ساختہ عقیدوں اور فرضي قصے کہانیوں کا ایسا ہالہ بنا لیتے ہیں کہ خدا کی تنبیہات ان کو دکھائی اور سنائی نہیں دیتیں۔ یہود کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی ایک حاملِ کتاب قوم کو اس کے ’’دشمنوں کے قبضہ‘‘ میں دے دیا جائے تو یہ اس کے لیے خدا کی طرف سے آزمائش کا وقت ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہلکی سزا دے کر قوم کو جگایا جائے۔ اگر اس کے نتیجہ میں قوم کے افراد میںخدا پرست جذبات جاگ اٹھیں تو اس کے اوپر سزا اٹھالی جاتی ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو خدا اس کو رد کرکے پھینک دیتا ہے اور پھر کبھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →