يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَن يَرۡتَدَّ مِنكُمۡ عَن دِينِهِۦ فَسَوۡفَ يَأۡتِي ٱللَّهُ بِقَوۡمٖ يُحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّونَهُۥٓ أَذِلَّةٍ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ يُجَٰهِدُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوۡمَةَ لَآئِمٖۚ ذَٰلِكَ فَضۡلُ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ
O you who have believed, whoever of you should revert from his religion - Allah will bring forth [in place of them] a people He will love and who will love Him [who are] humble toward the believers, powerful against the disbelievers; they strive in the cause of Allah and do not fear the blame of a critic. That is the favor of Allah; He bestows it upon whom He wills. And Allah is all-Encompassing and Knowing
In a person’s life, the most critical moment is when he has to make some sacrifice in order to stay resolutely on the path of Islam. If such occasions arise in human life, it is so that individuals may have the opportunity to make a clear avowal of their confirmation or rejection of Islam. God wants a man to prove his Islamism not only in danger-free conditions, but also when he is required to suppress his emotions or face danger to his life and property. Only on his success in this test does a man become entitled to be included by God among His faithful and loyal subjects. It is by providing proof of his Islamism on such occasions that a man’s previous deeds are validated. If he is unable to do so, he renders all his previous deeds valueless. Every test in this world is a test of intention. What man has to do to prove his intention is simply to ignore dangers; in that way he takes the first step on the path towards God. Then God’s help comes to him immediately thereafter. But one who does not provide proof of his intention and does not take the first step in the direction of God, is a transgressor in His eyes. Such individuals cannot then expect to be sent God’s unilateral help.
ایمان لانے کے بعد جو شخص ایمان کے تقاضے پورے نہ کرے وہ اللہ کی نظر میں دین کو قبول کرنے کے بعد دین سے پھر گیا۔ اللہ کی نظر میں سچے ایمان والے لوگ وہ ہیں جن کے اندر ایمان اس طرح داخل ہو کہ ان کو محبت کی سطح پر اللہ سے تعلق پیدا ہوجائے، ان کو اسلامی مقاصد کی تکمیل اتنی عزیز ہو کہ جو لوگ اسلام کی راہ میں ان کے بھائی بنیں ان کے لیے ان کے دل میں نرمی اور ہمدردی کے سوا کوئی اور چیز باقی نہ رہے۔ وہ مسلمانوں کے لیے اس درجہ شفیق بن جائیں کہ ان کی طاقت اور ان کی صلاحیت کبھی مسلمانوں کے مقابلہ میں استعمال نہ ہو۔ وہ دین کے معاملہ میں اتنے پختہ ہوں کہ غیر اسلامی لوگوں کے افکار واعمال سے کوئی اثر قبول نہ کریں۔ ان کے جذبات اس درجہ اصول کے تابع ہوجائیں کہ حق كو قبول كرنےکے معاملے ميں وہ پھول سے زیادہ نازک ثابت ہوں مگر ناحق کے معامله ميں وہ پتھر سے زیادہ سخت بن جائیں۔ تاكه کوئی بھي ان کو اپنے بے جا مقاصد کے لیے استعمال نہ کرسکے۔
اسلامی زندگی ایک بامقصد زندگی ہے اور اسی لیے وہ جدوجہد کی زندگی ہے۔ مسلمان کامشن یہ ہے کہ وہ اللہ کے دین کو اللہ کے تمام بندوں تک پہنچائے۔جہنم کی طرف جاتی ہوئی دنیا کو جنت کے راستہ پر لانے کی کوشش کرے۔ اس کام ميںفطری طورپر آدمی كو طرح طرح کی مشكلات اور طرح طرح کي ملامت ومخالفت كاسامناهوتا هے۔ يهاں تك کہ دو الگ الگ گروہ بن جاتے ہیں۔ ایک دنیا پرستوں کا اور دوسرا آخرت کے مسافروں کا۔ ان کے درمیان ایک مستقل کش مکش شروع ہوجاتی ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ ان سارے مواقع پر وہ اس انسان کا ثبوت دے جو اللہ کے بھروسہ پر چل رہا ہے اور اللہ کے سوا کسی کی پروا کیے بغیر اپنا اسلامی سفر جاری رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ موت کے دروازہ میں داخل ہو کر خدا کے پاس پہنچ جاتا ہے۔
اس طرح کے لوگ کسی مقام پر جب قابل لحاظ تعداد میں پیدا ہوجائیں تو زمین کا غلبہ بھی انھیں کے لیے مقدر کردیا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں۔ یعنی ان کا مرکز توجہ تمام تر اللہ بن جاتا ہے۔ وہ زکوۃ ادا کرتے ہیں۔ یعنی ان کے باہمی تعلقات ایک دوسرے کی خیر خواہی پر قائم ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے آگے جھکنے والے ہوتے ہیں۔ یعنی معاملات دنیا میں کوئی بھی چیز ان کو انانیت پر آمادہ نہیں کرتی بلکہ وہ ہر موقع پر وہی کرتے ہیں جو اللہ چاہے۔ وہ تواضع اختیار کرنے والے ہوتے ہیں، نہ کہ سرکشی کرنے والے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →