وَأَنِ ٱحۡكُم بَيۡنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَهُمۡ وَٱحۡذَرۡهُمۡ أَن يَفۡتِنُوكَ عَنۢ بَعۡضِ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ إِلَيۡكَۖ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَٱعۡلَمۡ أَنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُصِيبَهُم بِبَعۡضِ ذُنُوبِهِمۡۗ وَإِنَّ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلنَّاسِ لَفَٰسِقُونَ
And judge, [O Muhammad], between them by what Allah has revealed and do not follow their inclinations and beware of them, lest they tempt you away from some of what Allah has revealed to you. And if they turn away - then know that Allah only intends to afflict them with some of their [own] sins. And indeed, many among the people are defiantly disobedient
The Quran and other Divine Scriptures are not separate books. They are the different editions of a single Book of God which has been named al-kitab here. All editions of the Book revealed by God were one and the same as regards content. However, the bearers of the previous scriptures could not in the later periods preserve them in their original form. Therefore, God revealed His Book (muhaymin) i.e. the Quran, the authentic expression of His will, — a touchstone which reveals which sections of the other scriptures have retained their original form and which have been changed.
قرآن اور دوسرے آسمانی صحیفے الگ الگ کتابیں نہیں ہیں۔ یہ سب ایک ہی کتابِ الٰہی کے مختلف ایڈیشن ہیں جس کو یہاں ’’الکتاب‘‘ کہاگیا ہے۔ خدا کی طرف سے جتنی کتابیں آئیں، خواہ وہ جس دور میں اور جس زبان میں آئی ہوں، سب کا مشترک مضمون ایک ہی تھا۔ تاہم پچھلی کتابوں کے حاملین بعد کے زمانہ میں ان کو ان کی اصلی صورت میں محفوظ نه رکھ سکے۔ اس لیے خدا نے ایک کتاب مُہَیْمِنْ (قرآن) اتارا۔ یہ خدا کی طرف سے اس کی کتاب کا مستند ایڈیشن ہے اور اس بنا پر وہ ایک کسوٹی ہے جس پر جانچ کر معلوم کیا جائے کہ بقیہ کتابوں کا کون سا حصہ اصلی حالت میں ہے اور کون سا وہ ہے جو بدلا جاچکا ہے۔
یہود خدا کے سچے دین کے ساتھ اپنی باتوں کو ملا کر ایک خود ساختہ دین بنائے ہوئے تھے۔ اس خود ساختہ دین سے ان کی عقیدتیں بھی وابستہ تھیں اور ان کے مفادات بھی۔ اس لیے وہ کسی طرح تیار نہ تھے کہ اس کو چھوڑ کر پیغمبر کے لائے ہوئے بے آمیز دین کو مان لیں۔ انھوںنے حق کے آگے جھکنے کے بجائے اپنے لیے يه طریقہ پسند کیا کہ وہ حق کے علم بردار کو اتنا زیادہ پریشان کریں کہ وہ خود ان کے آگے جھک جائے، وہ خدا کے سچے دین کو چھوڑ کر ان کے اپنے بنائے ہوئے دین کو اختیار کرلے۔ خدا اگر چاہتا تو پہلے ہی مرحلہ میں ان ظالموں کا ہاتھ روک دیتا اور وہ حق کے داعی کو ستانے میں کامیاب نہ ہوتے۔ مگر اللہ نے انھیں چھوٹ دی کہ وہ اپنے ناپاک منصوبوں کو بروئے کار لاسکیں۔ ایسا اس لیے ہوا تاکہ یہ بات پوری طرح کھل جائے کہ دین داری کے یہ دعوے دار سب سے زیادہ بے دین لوگ ہیں۔ وہ خدا کے پرستار نہیں ہیں بلکہ خود اپنی ذات کے پرستار ہیں۔ اللہ کی یہ سنت اگر چہ حق کے داعیوں کے لیے بڑا سخت امتحان ہے۔ مگر یہی وہ عمل ہے جس کے ذریعہ یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کون جنت کا مستحق ہے اور کون جہنم کا۔
انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلنا چاہتا ہے، اللہ کے حکم کا پابند بن کر رہنا اس کو گوارا نہیں ہوتا۔ حتی کہ دین خداوندی کی خود ساختہ تشریح کرکے وہ اس کو بھی اپنی خواہشوں کے سانچہ میں ڈھال لیتا ہے۔ ایسی حالت میں بے آمیز دین کو وہی لوگ قبول کریں گے جو چیزوں کو خواہش کی سطح پر نہ دیکھتے ہوں بلکہ اس سے اوپر اٹھ کر اپنی رائے قائم کرتے ہوں۔ اللہ کی بات بلا شبہ صحیح ترین بات ہے۔ مگر موجودہ آزمائشی دنیا میں ہر سچائی پر ایک شبہہ کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ اس پردہ کو پھاڑ کر اس پر یقین کرے، وہ غیب کو شہود میں دیکھ لے۔ جو شخص ظاہری شبہات میں اٹک جائے وہ ناکام ہوگیا اور جو شخص ظاہری شبہات کے غبار کو پار کرکے سچائی کو پالے وہ کامیاب رہا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →