مِنۡ أَجۡلِ ذَٰلِكَ كَتَبۡنَا عَلَىٰ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ أَنَّهُۥ مَن قَتَلَ نَفۡسَۢا بِغَيۡرِ نَفۡسٍ أَوۡ فَسَادٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ ٱلنَّاسَ جَمِيعٗا وَمَنۡ أَحۡيَاهَا فَكَأَنَّمَآ أَحۡيَا ٱلنَّاسَ جَمِيعٗاۚ وَلَقَدۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُنَا بِٱلۡبَيِّنَٰتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرٗا مِّنۡهُم بَعۡدَ ذَٰلِكَ فِي ٱلۡأَرۡضِ لَمُسۡرِفُونَ
Because of that, We decreed upon the Children of Israel that whoever kills a soul unless for a soul or for corruption [done] in the land - it is as if he had slain mankind entirely. And whoever saves one - it is as if he had saved mankind entirely. And our messengers had certainly come to them with clear proofs. Then indeed many of them, [even] after that, throughout the land, were transgressors
When one person kills another, he is the killer of not only one person but of all human beings, because he contravenes the law of respect for human life upon which the lives of all human beings depend. Similarly, when someone saves another from oppression, he is not the saviour of just one person but of all human beings, because he is protecting the principle of respect for life of all hman beings, which holds that nobody has the right to raise his hand to another. If one person attacks the honour, property or life of another, it means that abnormal conditions have developed in the society. It is necessary for Muslims to look at even one incident of this nature as if the life, property and honour of all people are in danger. In a society, the tradition of respect for each other’s life is formed as a result of a long history, and once this tradition is violated, it will be a very long time before it can be revived. Those who establish the tradition of violence in a society are the worst enemies of that society.
کوئی شخص جب کسی شخص کو قتل کرتاہے تو وہ صرف ایک انسان کا قاتل نہیں ہوتا بلکہ تمام انسانوں کا قاتل ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ حرمت کے اس قانون کو توڑتا ہے جس میں تمام انسانوں کی زندگیاں بندھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح جب کوئی شخص کسی کو ظالم کے ظلم سے نجات دیتا ہے تو وہ صرف ایک شخص کا نجات دہندہ نہیں ہوتا بلکہ تمام انسانوں کا نجات دہندہ ہوتا ہے۔کیوں کہ اس نے اس اصول کی حفاظت کی کہ تمام انسانوں کی جان محترم ہے۔ کسی کو کسی کے اوپر ہاتھ اٹھانے کا حق نہیں۔ جب کوئی شخص کسی کی عزت یا اس کے مال یا اس کی جان پر حملہ کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرہ کے اندر ہنگامی حالت پیدا ہوگئی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وه ایسے کسی ایک واقعہ کو بھی اس نظر سے دیکھیں گویا سارے لوگوں کی جان اور مال اور آبرو خطرے میں ہے۔ کسی معاشرہ میں ایک دوسرے کے احترام کی روایات لمبی تاریخ کے نتیجہ میں بنتی ہیں۔ اور اگر ایک بار یہ روایات ٹوٹ جائیں تو دوبارہ لمبی تاریخ کے بعد ہی ان کو معاشرہ کے اندر قائم کیاجاسکتا ہے۔ جو لوگ معاشرہ کے اندر فساد کی روایت قائم کریں وہ معاشرہ کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
خدا نے اپنی دنیا کا نظام جس اصول پر قائم کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنے حصہ کا فرض انجام دے۔ کوئی شخص دوسرے کے دائرہ میں بے جا مداخلت نہ کرے۔ تمام جمادات اور حیوانات اسی فطرت پر عمل کررہے ہیں۔ انسان کو بھی پیغمبروں کے ذریعہ یہ ہدایات واضح طور پر بتا دی گئی ہیں۔ مگر انسان جو کہ دیگر مخلوقات کے برعکس وقتي طورپر آزاد رکھا گیا ہے، سرکشی کرتا ہے اور اس طرح فطرت کے نظام میں فساد پیدا کرتا ہے۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں سخت مجرم ہیں۔ اور وہ لوگ اور بھی زیادہ بڑے مجرم ہیں جو خدا و رسول سے جنگ کریں۔ یعنی خدا اپنے بندوں کے درمیان ایسی دعوت اٹھائے جو لوگوں کومفسدانہ طریقوں سے بچنے اور فطرت خداوندی پر زندگی گزارنے کی طرف بلاتی ہو تو وہ اس کا راستہ روکیں اور اس کے خلاف تخریبی کارروائیاں کریں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں عبرت ناک سزا ہے اور آخرت میں بھڑکتی ہوئی آگ۔
2 further citations are on recordings that are not available on YouTube at the moment, so they are not shown here. They are still counted above and included in the download.