إِنِّيٓ أُرِيدُ أَن تَبُوٓأَ بِإِثۡمِي وَإِثۡمِكَ فَتَكُونَ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلنَّارِۚ وَذَٰلِكَ جَزَـٰٓؤُاْ ٱلظَّـٰلِمِينَ
Indeed I want you to obtain [thereby] my sin and your sin so you will be among the companions of the Fire. And that is the recompense of wrongdoers
The real reward for the deeds performed for the sake of God will be given in the Hereafter. However, sometimes even in this world certain occurrences show whether human actions have gained God’s approval. This happened in the case of Adam’s sons, Abel and Cain (Habil and Qabil). Abel’s offerings from his flocks of sheep and goats were accepted by God and he was duly blessed, but Cain’s offerings of his agricultural produce were not, and he remained unblessed. Cain then became so jealous of his younger brother that he threatened to kill him. Abel said that Cain’s offering had been rejected because Cain had no heartfelt fear of God and should, therefore, reform himself instead of threatening him. But, jealousy and enmity blur the truth and one can think only of how to eliminate one’s supposed enemy. Abel told Cain that he might raise his hand to murder him, but that he would not retaliate, because God had prohibited any fighting between one Muslim and another. Even if a Muslim wanted to assassinate his brother, the brother should not consider it legitimate to kill his attacker. This obviated the mutual clash which was otherwise inevitable, as well as the resulting endless chain of action and reaction in Muslim society. If two Muslims are bent on each other’s destruction, the guilt is divided between the two. But if one Muslim carries out his intention, while the other remains immersed in prayer, the attacker will not only shoulder the burden of his own sin, but also that of any sin which his victim might have commmitted had he not remained patient and prayerful.
اللہ کے لیے جو عمل کیا جائے اس کا اصل بدلہ تو آخرت میں ملتا ہے، تاہم بعض اوقات دنیا میں بھی ایسے واقعات ظاہر ہوتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ آدمی کا عمل خدا کے یہاں مقبول ہوا یا نہیں۔ آدم کے بیٹوں میں سے قابیل اور ہابیل کے ساتھ بھی ایسی ہی صورت پیش آئی۔ قابیل کسان تھا اور ہابیل بھیڑ بکریوں کا کام کرتا تھا، ہابیل نے اپنی محنت کی کمائی اللہ کے لیے دی۔ وہ اللہ کے یہاں مقبول ہوئی اور اس کی برکت اس کی زندگی اور اس کے کام میں ظاہر ہوئی۔ قابیل نے بھی اپنی زراعت میں سے کچھ اللہ کے ليے پیش کیا مگر وہ قبول نہ ہوا ا ور وہ خدا کی برکت پانے سے محروم رہا۔ یہ دیکھ کر قابیل کے دل میں اپنے چھوٹے بھائی ہابیل کے لیے حسد پیدا ہوگیا۔ یہ حسد اتنا بڑھا کہ اس نے ہابیل سے کہا کہ میں تم کو جان سے مار ڈالوں گا۔ ہابیل نے کہا کہ تمھاری قربانی قبول نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ تمھارے دل میں خدا کا خوف نہیں۔ تم کو میرے پیچھے پڑنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ مگر حسد اور بغض کی آگ جب کسی کے اندر بھڑکتی ہے تو وہ اس کو اس قابل نہیں رکھتی کہ وہ اپنی غلطیوں کا جائزہ لے۔ وہ بس ایک ہی بات جانتا ہے— جس طرح بھی ہو اپنے مفروضہ حریف کا خاتمہ کردے۔
ہابیل نے قابیل سے کہا کہ تم خواہ میرے قتل کے لیے ہاتھ بڑھاؤ، میں تمھارے قتل کے لیے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اور مسلمان کی باہمی لڑائی کو اللہ نے سراسر حرام قرار دیا ہے۔ حتی کہ اگر ایک مسلمان اپنے دوسرے بھائی کے قتل کے درپے ہوجائے تو اس وقت بھی عزیمت یہ ہے کہ دوسرا بھائی اپنے بھائی کے خون کو اپنے لیے حلال نہ کرے۔ وہ اپنی طرف سے جارحانہ اقدام نہ کركے باہمی ٹکراؤ کو پہلے ہی مرحلہ میں ختم کردے۔ اس کے برعکس، اگر وہ بھی جواب میں جارحیت کرنے لگے تو مسلم معاشرہ کے اندر عمل اور رد عمل کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ لیکن حملہ آور اگر غیر مسلم ہو تو اس وقت ایسا کرنا درست نہیں۔ اسی طرح جب دینی دشمنوں کی طرف سے جارحیت کی جائے تو مسلم اور غیر مسلم کا فرق كيے بغیر ایسے لوگوں سے بھر پور مقابلہ کیا جائے گا۔
دو مسلمان جب ایک دوسرے کی بربادی کے درپے ہوں تو گناہ دونوں کے درمیان تقسیم ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی بربادی کی کارروائیاں کرے اور دوسرا مسلمان صبر اور دعا میں مشغول ہو تو پہلا شخص نہ صرف اپنے گناہ کا بوجھ اٹھاتا ہے بلکہ دوسرے شخص کے اس ممکن گناہ کا بوجھ بھی اس کے اوپر ڈال دیاجاتا ہے، جو صبر اور دعا کے طریقہ پر نہ چلنے کی صورت میں وہ کرتا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →