۞يَوۡمَ يَجۡمَعُ ٱللَّهُ ٱلرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَآ أُجِبۡتُمۡۖ قَالُواْ لَا عِلۡمَ لَنَآۖ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّـٰمُ ٱلۡغُيُوبِ
[Be warned of] the Day when Allah will assemble the messengers and say, "What was the response you received?" They will say, "We have no knowledge. Indeed, it is You who is Knower of the unseen
Those who embraced the faith on the strength of their prophets’ teachings later fell away from the true religion and concocted their own religion in the name of the prophet. In spite of this, every group treated itself as the ummah (community) of its prophet, though after deviating from the real teachings of that prophet, they ceased to have any link with him. The Jews claim to have a connection with Moses and the Christians with Jesus, though their present religions are unconnected with those prophets. This fact has become obscure in the present world of trial. But, on the Day of Judgement, all will be made clear. On that Day, God will assemble all the prophets and, in the presence of their communities, He will ask them what teachings they gave their community and how the community adopted them. In this way, it will be made clear to every community before its prophet as to how far its members contravened their prophet’s teachings on the religion of God, and it will be shown how they had falsely linked their self-made religion with the prophet.
پیغمبروں پر جو لوگ ایمان لائے، بعد کے زمانہ میں سب کے اندر بگاڑ پیدا ہوا۔ انھوں نے اپنے طور پر ایک دین بنایا اور اس کو اپنے پیغمبر کی طرف منسوب کردیا۔ اس کے باوجود ہر گروہ اپنے آپ کو اپنے پیغمبر کی امت شمار کرتا رہا ۔ حالانکہ پیغمبر کی اصل تعلیمات سے ہٹنے کے بعد اس کا پیغمبر سے کوئی تعلق باقی نہ رہا تھا۔ یہودی اپنے کو حضرت موسیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور عیسائی اپنے کو حضرت عیسیٰ کی طرف۔ حالاں کہ ان کے مروجہ دین کا خدا کے ان پیغمبروں سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ حقیقت موجودہ امتحان کی دنیا میں چھپی ہوئی ہے۔ مگر قیامت کے دن وہ کھول دی جائے گی۔ اس دن خدا تمام پیغمبروں کو اور اسی کے ساتھ ان کی امتوں کو جمع کرے گا۔ اس وقت امتوں کے سامنے ان کے پیغمبروں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنی امتوں کو کیا تعلیم دی اور امتوں نے تمھاری تعلیمات کو کس طرح اپنایا۔ اس طرح ہر امت پر اس کے پیغمبر کی موجودگی میں واضح کیاجائے گا کہ اس نے خدا کے دین کے معاملہ میں اپنے پیغمبروں کی کیا کیا خلاف ورزی کی ہے اور کس طرح خود ساختہ دین کو ان کی طرف منسوب کیا ہے۔
انھیں پیغمبروں میں سے ایک مثال حضرت عیسیٰ کی ہے جو خاتم النبیین محمد صلى الله عليه وسلم اور پہلے کے انبیاء کی درمیانی کڑی ہیں۔ حضرت عیسیٰ کو انتہائی خصوصی معجزے ديے گئے۔آپ پر ایمان لانے والے بہت کم تھے اور آپ کے مخالفین ( یہود) کو ہر طرح کا دنیوی زور حاصل تھا۔ اس کے باوجود وہ حضرت عیسیٰ کا کچھ نقصان نہ کرسکے اور نہ آپ کے ساتھیوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان معجزات کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ لوگ آپ کے لائے ہوئے دین کو مان لیتے۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ آپ کے مخالفین نے یہ کہہ کر آپ کو نظر انداز کردیا کہ وہ جو معجزے دکھارہے ہیں وہ سب جادو کا کرشمہ ہے۔ اور جو لوگ آپ پر ایمان لائے انھوںنے بعد کے زمانے میں آپ کو خدائی کا درجہ دے دیا۔ قیامت کے دن آپ کی پیروی کا دعویٰ کرنے والوں کے سامنے یہ حقیقت کھول دی جائے گی کہ حضرت عیسیٰ نے جو کمالات دکھائے وہ سب خدا کے حکم سے تھے۔ آپ کے دشمنوں نے آپ کو جن خطرات میں ڈالا ان سے بھی اللہ ہی نے آپ کو بچایا۔ جب صورت حال یہ تھی اور حضرت عیسیٰ خود سامنے کھڑے ہو کر اس کی تصدیق کررہے ہیں تو اب ان کے امتی بتائیں کہ انھوں نے آپ کی طرف جو دین منسوب کیا وہ کس نے انھیں دیا تھا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →