يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَتَبَيَّنُواْ وَلَا تَقُولُواْ لِمَنۡ أَلۡقَىٰٓ إِلَيۡكُمُ ٱلسَّلَٰمَ لَسۡتَ مُؤۡمِنٗا تَبۡتَغُونَ عَرَضَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا فَعِندَ ٱللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٞۚ كَذَٰلِكَ كُنتُم مِّن قَبۡلُ فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمۡ فَتَبَيَّنُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٗا
O you who have believed, when you go forth [to fight] in the cause of Allah, investigate; and do not say to one who gives you [a greeting of] peace "You are not a believer," aspiring for the goods of worldly life; for with Allah are many acquisitions. You [yourselves] were like that before; then Allah conferred His favor upon you, so investigate. Indeed Allah is ever, with what you do, Acquainted
In essence, these verses primarily lay down the law on premeditated and unpremeditated modes of crime, but they also suggest ways, under the divine law, of dealing with and checking other serious crimes in the public realm. Just as it is our duty not to deprive our fellow men of their lives, we are also commanded that we should not disgrace others, or rob or deprive them of their livelihood or victimize them in any manner such as would seriously disturb their peace of mind. If one commits any such damaging acts against others by mistake, one should be quick to accept the blame. Proof of the realisation of guilt would be sincere repentance before God and providing compensation for the loss of the affected person. But if one indulges in acts such as are deliberately intended to harm and harass others, this would be regarded as the equivalent of an act of deliberate homicide, the only difference being in its degree of gravity.
عرب کے مخالف قبائل میں کچھ ایسے افراد تھے جو اندر مسلمان تھے مگر ہجرت کرکے ابھی اپنے قبیلہ سے کٹے نہیں تھے۔ ایک غزوہ میں ایسا ایک شخص مسلمان کی تلوار کی زد میں آگیا۔اس نے ’’السلام علیکم‘‘ کہہ کر ظاہر کیا کہ میں تمھارا دینی بھائی ہوں۔ بعض پر جوش مسلمانوں نے پھر بھی اس کو قتل کردیا۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ مسلمان نہیں ہے اور محض اپنے کو بچانے کی خاطر السلام علیکم کہہ رہا ہے۔ مگر السلام علیکم کہنے کی حد تک بھی کوئی شخص مسلمان ہو تو اس پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں۔ حتی کہ جنگ کے موقع پر بھی نہیں جب کہ یہ اندیشہ ہو کہ دشمن اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ کسی مسلمان کا ماراجانا اللہ کے نزدیک اتنا بڑا حادثہ ہے کہ ساری دنیا کا فنا ہوجانا بھی اس کے مقابلہ میں کم ہے (لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ) سنن الترمذي، حديث نمبر 1395۔
جب بھی کوئی شخص اس قسم کا اسلامی جوش دکھاتا ہے کہ وہ دوسرے آدمی کی اسلامیت کو ناقابلِ تسلیم قرار دے کر اس کو سزا دینے پر اصرار کرتا ہے تو اس کے پیچھے ہمیشہ دنیوی محرکات ہوتے ہیں۔ کبھی کوئی مادی لالچ، کبھی انتقام کی آگ، کبھی اپنے کسی حریف کو میدان سے ہٹانے کا شوق، بس اس قسم کے جذبات ہیں جو اس کے باعث بنتے ہیں۔ اگر آدمی کے سینہ میں اللہ سے ڈرنے والا دل ہو تو وہ اسلام کا اظہار کرنے والے کے الفاظ کو قبول کرلے گا اور اس کے معاملہ کو اللہ کے حوالے کرکے خاموش ہوجائے گا۔
عمل کے لحاظ سے مسلمانوں کے دو درجے ہیں۔ ایک وہ لوگ جو فرائض کے دائرہ میں اسلامی زندگی اختیار کریں۔ وہ اللہ کی عبادت کریں او رحرام و حلال کے حدود کا لحاظ کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔ دوسرے لوگ وہ ہيں جو قربانی کی سطح پر اسلام کو اختیار کریں۔ وہ خود اسلام کو اپناتے ہوئے دوسروں کو بھی اسلام پر لانے کی کوشش کریں اور اس راہ کی مصیبتوں کو برداشت کریں۔ وہ اسلام کے محاذ پر اپنی جان ومال کو لے کر حاضر ہوجائیں۔ وہ فرائض کے حدود میں نہ ٹھہریں بلکہ فرائض سے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو اسلام کے لیے پیش کردیں۔ یہ دونوں ہی گروہ مخلص ہیں اور دونوں اللہ کی رحمتوں میں اپنا حصہ پائیںگے۔ مگر دوسرے گروہ کا معاملہ بنيادی طورپر الگ ہے۔ انھوں نے ناپ کر خدا کی راہ میں نہیں دیا اس لیے خدا بھی ان کو ناپ کر نہیں دے گا۔ انھوں نے مصلحتوں کی پروا کیے بغیر خدا کے مشن میں اپنے آپ کو شریک کیا اس لیے خدابھي پروا کیے بغیر ان کو اپنی رحمتوں میں لے لے گا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →