وَمَا لَكُمۡ لَا تُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلۡمُسۡتَضۡعَفِينَ مِنَ ٱلرِّجَالِ وَٱلنِّسَآءِ وَٱلۡوِلۡدَٰنِ ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ أَخۡرِجۡنَا مِنۡ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةِ ٱلظَّالِمِ أَهۡلُهَا وَٱجۡعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيّٗا وَٱجۡعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا
And what is [the matter] with you that you fight not in the cause of Allah and [for] the oppressed among men, women, and children who say, "Our Lord, take us out of this city of oppressive people and appoint for us from Yourself a protector and appoint for us from Yourself a helper
One who struggles, facing all difficulties and setbacks to warn people of the perils of Hell and guides them towards Paradise, refrains from picking quarrels with anyone on materialistic or political issues, but even then he is opposed and challenged by evil-doers. The followers of the path of Satan would fight with a servant of God for the simple reason that his utterances assail their egos, and with the spread of his message, they anticipate economic and political danger for themselves. They cannot find any valid argument to counter his arguments, so they resort to violence and aggression.
موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں شریر لوگوں کو بھی موقع ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں اور اسی کے ساتھ خدا کے نیک بندوں کو اپنے اقرار ایمان کا ثبوت اس طرح دینا ہے کہ وہ شریر لوگوں کی طرف سے ڈالی جانے والی مصیبتوں کے باوجود ثابت قدم رہیں۔ اہلِ ایمان کو خدا کے دشمنوں کے مقابلہ میں ہر وقت چوکنا رہنا ہے۔ پرامن تدبیروں اور جنگي تیاریوں سے ان کو پوری طرح اپنے بچاؤ کا انتظام کرنا هے۔ ان کو متفرق طورپر بھی اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے اور مل کر بھی۔ اسی کے ساتھ خود مسلمانوں کی صف میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں ، جیسا کہ غزوۂ احد میں ظاہر ہوا، جو دنیا کے نقصان کا خطرہ مول لیے بغیر آخرت کا سودا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کاموں میں تو خوب حصہ لیتے ہیں جن میں دنیوی فائدہ کا کوئی پہلو ہو۔ مگر ایسا دینی کام جس میں دنیوی اعتبار سے نقصان کا اندیشہ ہو اس سے علیحدگی کے لیے خوبصورت عذر تلاش کرلیتے ہیں۔ ان کی یہ ذہنیت اس لیے ہے کہ اسلام قبول کرنے کے باوجود عملاً وہ اسی موجودہ دنیا کی سطح پر جی رہے ہیں۔ اگر ان کو یقین ہو کہ اصل اہمیت کی چیز آخرت ہے تو دنیا کی کامیابی وناکامی ان کے لیے ناقابلِ لحاظ بن جائے ۔ اللہ کی راہ کا مجاہد حقیقۃً وہ ہے جو صرف آخرت کا طالب ہو، جو دنیا کے فائدوں اور مصلحتوں کو قربان کرکے اللہ کی راہ میں بڑھے، نہ کہ وہ جو ایسے جہاد کا غازی بننا پسند کرے جس میں کوئی زخم لگے بغیر بڑے بڑے کریڈٹ ملتے ہوں، جس میں الفاظ بول کر شہرت وعزت کا مقام حاصل ہوتا ہو۔
خدا کی راہ کی لڑائی وہ ہے جو اس بندۂ خدا کو پیش آئے جو صرف خدا کے لیے اٹھا ہو۔ وہ لوگوں کو جہنم سے ڈرائے اور لوگوں کو جنت کی طرف بلائے۔ کسی سے وہ مادی یا سیاسی جھگڑا نہ چھیڑے۔ پھر بھی شریر لوگ اس سے لڑنے کے لیے کھڑے ہوجائیں۔ اور شیطان کی راہ میں لڑنے والے وہ لوگ ہیں جو کسی بندۂ خدا سے اس بنا پر لڑ پڑیں کہ اس کی باتوں سے ان کی اَنانیت پر ضرب پڑتی ہے۔ اس کے پیغام کے پھیلاؤ میں ان کو اپنا معاشی یا سیاسی خطرہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے دلائل کو توڑنے کے لیے وہ جارحیت کے سوا اور کوئی دلیل اپنے پاس نہیں پاتے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →