وَإِنۡ أَرَدتُّمُ ٱسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٖ مَّكَانَ زَوۡجٖ وَءَاتَيۡتُمۡ إِحۡدَىٰهُنَّ قِنطَارٗا فَلَا تَأۡخُذُواْ مِنۡهُ شَيۡـًٔاۚ أَتَأۡخُذُونَهُۥ بُهۡتَٰنٗا وَإِثۡمٗا مُّبِينٗا
But if you want to replace one wife with another and you have given one of them a great amount [in gifts], do not take [back] from it anything. Would you take it in injustice and manifest sin
Undoubtedly, the successors of a deceased person have the right to inherit his property. But his widow is not to be treated as a part of the inheritance and exploited as the successors decide. Property is inanimate and therefore without feeling, and, as such is a proper object of inheritance, but human beings have sensate, independent existences, and therefore possess the right to decide their future according to their own choice. If there is any physical or temperamental shortcoming in a woman, it should be tolerated so that she may have the opportunity to use her other natural talents to play her part in the building up of the household. One should overlook the unpleasant aspects of her personality and try to adjust amicably. The secret of the progress and solidarity of any family or society is that its members should ignore the shortcomings and deficiencies of each other and give everyone the chance to exercise his or her abilities. Those who adopt the way of patience and tolerance in this world for the sake of God, are the people who will be granted admission to Paradise in the Hereafter. When one does not like one’s life companion and, rather than be tolerant, decides to separate, it often happens that one exaggerates the shortcomings of the other to justify one’s decision. Allegations are fabricated so that the weaker person should become nervous and leave. Similarly, while severing the marriage bond, trumped up reasons are presented to the other party. But these activities are against the covenant. A covenant is considered sacred by God and whether written or unwritten, it is essentially binding. It applies equally to both parties, leaving them no choice of their own.
مرنے والے کے مال میں یقیناًبعد والوں کو وراثت کا حق ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرنے والے کی بیوی کو بھی بعد کے لوگ اپنی میراث سمجھ لیں اور جس طرح چاہیں اس کو استعمال کریں۔ مال ایک بے حس اور محکوم چیز ہے اور اس میں وراثت چلتی ہے۔ مگر انسان ایک زندہ اور آزاد ہستی ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرے — عورت میں اگر کوئی جسمانی یا مزاجی کمی ہے تو اس کو برداشت کرتے ہوئے عورت کو موقع دینا چاہیے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی دوسری خصوصیتوں کو بروئے کار لاکر گھر کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرے۔ آدمی کو چاہیے کہ ظاہری ناپسندیدگی کو بھول کر باہمی تعلق کونبھائے۔ کسی خاندان اور اسی طرح کسی معاشرہ کی ترقی واستحکام کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کی کمیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی خوبیوں کو بروئے کار آنے کا موقع دیں۔ جو لوگ اللہ کی خاطر موجودہ دنیا میں صبر وبرداشت کا طریقہ اختیار کریں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی جنّتوں میں داخل کيے جائیں گے۔
جب آدمی کو اپنا شریک حیات ناپسند ہو اور وہ صبر کا طریقہ اختیار نہ کرکے علیٰحدگی کا فیصلہ کرے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس علیحدگی کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے وہ دوسرے فریق کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتاہے۔ وہ اس پر جھوٹے الزام لگاتا ہے۔ وہ اس کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرتا ہے تاکہ وہ گھبرا کر خود ہی بھاگ جائے۔ اسی طرح جب آدمی کسی سے تعلق توڑتا ہے تو ضد میں آکر فریق ثانی کو دی ہوئی چیزیں اس سے واپس چھیننے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ سب عہد کی خلاف ورزی ہے اور عهد اللہ کی نظر میں ایسی مقدس چیز ہے کہ اگر وہ غیر تحریری شکل میں ہو تب بھی اس کی پابندی اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ تحریری عہد کی۔
’’جو ہوچکا سو ہوچکا ‘‘ کا اصول صرف نکاح سے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک عام اصول ہے۔ زندگی کے نظام میں جب بھی کوئی تبدیلی آتی ہے، خواہ وہ گھریلو زندگی میں ہو یا قومی زندگی میں، تو ماضی کے بہت سے امور ایسے ہوتے ہیں جو نئے انقلاب کے معیار پر غلط نظر آتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ماضی کو کریدنا اور گزری ہوئی غلطیوں پر احکام صادر کرنا بے شمار نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ ماضی کو بھلا دیا جائے اور صرف حال اور مستقبل کی اصلاح پر اپنی کوششیں لگا دی جائیں۔
’’اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے گزر بسر کرو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ تم کو ایک چیز پسند نه ہو مگر اللہ نے اس کے اندر تمھارے لیے کوئی بڑی بھلائی رکھ دی ہو‘‘ — یہ فقرہ یہاں اگرچہ میاں بیوی کے تعلق کے بارے میں آیا ہے۔ مگر اس کے اندر ایک عمومی تعلیم بھی ہے۔ قرآن کا یہ عام اسلوب ہے کہ ایک متعین معاملہ کا حکم بتاتے ہوئے اس کے درمیان ایک ایسی کلی ہدایت دے دیتا ہے جس کا تعلق آدمی کی پوری زندگی سے ہو۔
دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے مل جل کر رہنا ناگزیر ہے۔ کوئی شخص بالکل اگ تھلگ زندگی گزار نہیں سکتا۔ اب چوں کہ طبیعتیں الگ الگ ہیں، اس لیے جب بھی کچھ لوگ مل کر رہیں گے ان کے درمیان لازماً شکایات پیدا ہوں گی۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل صورت صرف یہ ہے کہ شکایتوں کو نظر انداز کیا جائے اور خوش اسلوبی کے ساتھ تعلق کو نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے ساتھی کی ایک خرابی آدمی کے سامنے آتی ہے اور وہ بس اسی کو لے کر اپنے ساتھی سے روٹھ جاتا ہے۔ حالاں کہ اگر وہ سوچے تو وہ پائے گا کہ ہر ناموافق صورت حال میں کوئی خیر کا پہلو موجود ہے۔ کبھی کسی واقعہ میں آدمی کے لیے صبر کی تربیت کا امتحان ہوتا ہے۔ کبھی اس کے اندر اللہ کی طرف رجوع اور انابت کی غذا ہوتی ہے۔ کبھی ایک چھوٹی سی تکلیف میںکوئی بڑا سبق چھپا ہوا ہوتا ہے، وغیرہ۔