فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱللَّهِ وَٱعۡتَصَمُواْ بِهِۦ فَسَيُدۡخِلُهُمۡ فِي رَحۡمَةٖ مِّنۡهُ وَفَضۡلٖ وَيَهۡدِيهِمۡ إِلَيۡهِ صِرَٰطٗا مُّسۡتَقِيمٗا
So those who believe in Allah and hold fast to Him - He will admit them to mercy from Himself and bounty and guide them to Himself on a straight path
It is also necessary to hold on firmly to the truth. Because in this world of trial Satan is pursuing man and, by deceiving him in many ways, keeps turning him away from the Truth. If man does not resolve to support the truth by fighting Satan’s deceptions, then certainly Satan will be able to induce him to enter his fold. However, in this world of trial man is not left all alone. Those who wish to tread the divine path will receive divine guidance at every turn. By the help of God they will succeed in reaching their destination. When man gives all importance to the Truth alone, by the blessing of God this ability to persevere on the straight path of pure truth is engendered within him. He is thus saved from deviating to other paths that will lead him astray.
اللہ کی طرف سے جب اس کی پکار انسانوں کے سامنے بلند ہوتی ہے تو وہ ایسی کھلی ہوئی صورت میں بلند ہوتی ہے جو تاریکیوں کو ختم کرکے حقائق کو آخری حد تک روشن کردے۔ اسی کے ساتھ وہ ایسے دلائل سے مسلّح ہوتی ہے جس کا رد کرنا کسی کے لیے ممکن نہ ہو۔ وہ اس کا استہزا تو کرسکتے ہیں مگر دلیل کی زبان میں اس کو کاٹ نہیں سکتے۔خدا وہ ہے جو سورج نکالتا ہے تو روشنی اور تاریکی ایک دوسرے سے جدا ہوجاتی ہیں۔ خدا کی یہی قدرت اس کی پکار میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے بعد حق اور باطل ایک دوسرے سے اس طرح الگ ہوجاتے ہیں کہ کسی آنکھ والے کے لیے اس کا جاننا ناممکن نہ رہے۔ تاہم سورج کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنی آنکھ کھولے۔ اسی طرح خدا کی پکار سے ہدایت لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اس پر دھیان دے۔ جو شخص دھیان نہ دے وہ خدا کی پکار کے درمیان رہ کر بھی اس سے محروم رہے گا۔
اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حق کو مضبوطی کے ساتھ پکڑا جائے۔ کیوں کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں شیطان ہر آدمی کے پیچھے لگا ہوا ہے جو طرح طرح کے دھوکے میں ڈال کر آدمی کو حق سے بدکاتا رہتا ہے۔ اگر آدمی شیطان کے وسوسوں سے لڑکر حق کا ساتھ دینے کا فیصلہ نہ کرے تو یقینا شیطان اس کو درمیان میں اچک لے گا۔ تاہم آزمائش کی اس دنیا میں انسان اکیلا نہیں ہے۔ جو لوگ خدا کی طرف چلنا چاہیں گے ان کو ہر موڑ پر خدا کی رہنمائی حاصل ہوگی۔ وہ خدا کی مدد سے منزل پر پہنچنے میں کامیاب ہوںگے۔جب آدمی کا یہ حال ہوجائے کہ وہ صرف حق کو اہمیت دے تو اللہ کی توفیق سے اس کے اندر یہ صلاحیت ابھر آتی ہے کہ وہ خالص حق پر مضبوطی کے ساتھ جمے اور دوسری راہوں میں بھٹکنے سے بچا رہے۔
میراث اور ترکہ کا حکم بتاتے ہوئے یہ کہنا کہ ’’اللہ اپنا حکم بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہی میں نہ پڑو‘‘ ظاہر کرتا ہے کہ میراث اور ترکہ کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیںہے۔ یہ ان امور میں سے ہے جس میں اللہ کے بتائے ہوئے قاعدے کی پابندی نہ کرنا آدمی کو گمراہی کی خندق میں ڈال دیتا ہے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →