يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدۡ جَآءَكُم بُرۡهَٰنٞ مِّن رَّبِّكُمۡ وَأَنزَلۡنَآ إِلَيۡكُمۡ نُورٗا مُّبِينٗا
O mankind, there has come to you a conclusive proof from your Lord, and We have sent down to you a clear light
When a divine call is made to human beings, it is so loud and clear that it amounts to wiping out darkness and illuminating life’s realities to the ultimate extent. It comes so well fortified with arguments that it is not possible to deny it. The deniers may ridicule it, but they cannot counter it with logic. When God makes the sun rise, light and darkness are separated from one another. This divine power is expressed in the call of truth also. After this divine call, truth and untruth are so clearly separated from one another that no one in his senses finds it difficult to understand. However, in order to see the sun, man has to open his eyes. Similarly, to receive guidance from the divine call, it is necessary to pay full attention to it. One who does not pay heed will remain deprived of it, even as the divine call is being made.
اللہ کی طرف سے جب اس کی پکار انسانوں کے سامنے بلند ہوتی ہے تو وہ ایسی کھلی ہوئی صورت میں بلند ہوتی ہے جو تاریکیوں کو ختم کرکے حقائق کو آخری حد تک روشن کردے۔ اسی کے ساتھ وہ ایسے دلائل سے مسلّح ہوتی ہے جس کا رد کرنا کسی کے لیے ممکن نہ ہو۔ وہ اس کا استہزا تو کرسکتے ہیں مگر دلیل کی زبان میں اس کو کاٹ نہیں سکتے۔خدا وہ ہے جو سورج نکالتا ہے تو روشنی اور تاریکی ایک دوسرے سے جدا ہوجاتی ہیں۔ خدا کی یہی قدرت اس کی پکار میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے بعد حق اور باطل ایک دوسرے سے اس طرح الگ ہوجاتے ہیں کہ کسی آنکھ والے کے لیے اس کا جاننا ناممکن نہ رہے۔ تاہم سورج کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنی آنکھ کھولے۔ اسی طرح خدا کی پکار سے ہدایت لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اس پر دھیان دے۔ جو شخص دھیان نہ دے وہ خدا کی پکار کے درمیان رہ کر بھی اس سے محروم رہے گا۔
اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حق کو مضبوطی کے ساتھ پکڑا جائے۔ کیوں کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں شیطان ہر آدمی کے پیچھے لگا ہوا ہے جو طرح طرح کے دھوکے میں ڈال کر آدمی کو حق سے بدکاتا رہتا ہے۔ اگر آدمی شیطان کے وسوسوں سے لڑکر حق کا ساتھ دینے کا فیصلہ نہ کرے تو یقینا شیطان اس کو درمیان میں اچک لے گا۔ تاہم آزمائش کی اس دنیا میں انسان اکیلا نہیں ہے۔ جو لوگ خدا کی طرف چلنا چاہیں گے ان کو ہر موڑ پر خدا کی رہنمائی حاصل ہوگی۔ وہ خدا کی مدد سے منزل پر پہنچنے میں کامیاب ہوںگے۔جب آدمی کا یہ حال ہوجائے کہ وہ صرف حق کو اہمیت دے تو اللہ کی توفیق سے اس کے اندر یہ صلاحیت ابھر آتی ہے کہ وہ خالص حق پر مضبوطی کے ساتھ جمے اور دوسری راہوں میں بھٹکنے سے بچا رہے۔
میراث اور ترکہ کا حکم بتاتے ہوئے یہ کہنا کہ ’’اللہ اپنا حکم بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہی میں نہ پڑو‘‘ ظاہر کرتا ہے کہ میراث اور ترکہ کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیںہے۔ یہ ان امور میں سے ہے جس میں اللہ کے بتائے ہوئے قاعدے کی پابندی نہ کرنا آدمی کو گمراہی کی خندق میں ڈال دیتا ہے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →