وَقَوۡلِهِمۡ إِنَّا قَتَلۡنَا ٱلۡمَسِيحَ عِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ رَسُولَ ٱللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمۡۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُۚ مَا لَهُم بِهِۦ مِنۡ عِلۡمٍ إِلَّا ٱتِّبَاعَ ٱلظَّنِّۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَۢا
And [for] their saying, "Indeed, we have killed the Messiah, Jesus, the son of Mary, the messenger of Allah." And they did not kill him, nor did they crucify him; but [another] was made to resemble him to them. And indeed, those who differ over it are in doubt about it. They have no knowledge of it except the following of assumption. And they did not kill him, for certain
Those who suffer from false convictions are emboldened to commit all kinds of crimes. They have no qualms about breaking the divine covenant to which they are bound by their belief in God. Despite clear arguments from God they are not willing to mend their ways. One who calls upon them to accept the truth exposes their ungodly ways, so they do not hesitate to perpetrate any kind of aggression against him. They will go even to the extent of false calumny against the dayee in order to dishonour him. The Jews went so far as to try to kill the Prophet Jesus and then boasted, ‘We have put to death the Messiah, Jesus, son of Mary.’ However, whatever plots these people may hatch against the dayee, they can never succeed. God’s power and his immutable system of nature is always there to support His envoys. Despite all plots and all opposition, they receive every kind of divine succour until they have completed the divine mission. Those who opt for an antagonistic attitude to the call of the truth have their very capacity to accept the truth taken away by God, until one day they are brought as criminals before the divine court by the angels.
یہودپر آسمانی ہدایت اتاری گئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلیں تو آخرت میں اللہ ان کو جنت دے گا۔ انھوں نے پہلے حصہ کو بھلا دیاالبتہ دوسرے حصہ کو اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا۔ یہود ہر قسم کے بگاڑ میں مبتلا ہوئے۔ اس کے باوجود اپنے نجات یافتہ ہونے کے بارے میں ان کا یقین اتنا بڑھا ہوا تھا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ اب ان کو نئے نبی کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ وہ بطور طنز کہتے —’’ہمارے دل تو بند ہیں‘‘۔ ان کا یہ جملہ رسول کو ماننے کے بارے میں اپنی عدم صلاحیت کا اظہار نہ تھا بلکہ اس اطمینان کا اظہار تھا کہ وہ رسول کے ساتھ خواہ جو بھی سلوک کریں ان کی نجات کسی حال میں مشتبہ ہونے والی نہیں۔
جو لوگ اس قسم کے جھوٹے یقین میں مبتلا ہوں وہ ہر قسم کے جرم پر جری ہوجاتے ہیں۔ خدا پر ایمان ان کو جس عہد خداوندی میں باندھتا ہے اس کو توڑنا ان کے لیے کچھ مشکل نہیں ہوتا۔اللہ کی طرف سے ظاہر ہونے والے کھلے دلائل کے باوجود وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ حق کی طرف بلانے والے جو ان کی غیر خدا پرستانہ روش کو بے نقاب کرتے ہیں ان کے خلاف جارحانہ اقدام کرنے سے وہ نہیں جھجھكتے۔ حتی کہ جھوٹی تہمت لگا کر داعی کو بے عزت کرنے سے بھی انھیں کوئی چیز نہیں روکتی۔ یہود نے حضرت مسیح کے خلاف قتل کا اقدام کیا اور اس کے بعد فخریہ کہا کہ ’’مریم کا بیٹا مسیح جو اپنے کو رسول کہتا تھا اس کو ہم نے مارڈالا‘‘۔ مگر اس قسم کے لوگ اللہ کے داعیوں کے خلاف جو بھی سازش کریں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اللہ کی طاقت اور اس کا حکیمانہ نظام ہمیشہ حق کے داعیوں کی پشت پر ہوتا ہے۔ ہر سازش اور مخالفت کے باوجود وہ اس وقت تک اپنا کام جاری رکھنے کی توفیق پاتے ہیں جب کہ وہ اپنے حصہ کا کام مکمل کرلیں۔
جو لوگ حق کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کریں اللہ ان سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت چھین ليتا ہے۔ وہ اپنی مخالفانہ سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیںیہاں تک کہ خدا کے فرشتے ان کو مجرم کی حیثیت سے پکڑ کر خدا کی عدالت میں حاضر کردیتے ہیں۔