وَلَا تَهِنُواْ فِي ٱبۡتِغَآءِ ٱلۡقَوۡمِۖ إِن تَكُونُواْ تَأۡلَمُونَ فَإِنَّهُمۡ يَأۡلَمُونَ كَمَا تَأۡلَمُونَۖ وَتَرۡجُونَ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا يَرۡجُونَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا
And do not weaken in pursuit of the enemy. If you should be suffering - so are they suffering as you are suffering, but you expect from Allah that which they expect not. And Allah is ever Knowing and Wise
Though Muslims rely entirely on God, they have been instructed to be ready with the necessary means of defence against their enemies. This is so because help from God reaches the recipient through tangible means. If the Muslims did not prepare for their defence, it would be like not taking hold of the receptacle through which God’s help could reach them. The difficulties faced by the Muslims in this world are a part of God’s scheme to create such conditions of trial as will enable Him to judge who remains steadfast and who is a reckless victimiser of his fellow men. During the struggle between truth and untruth, sometimes the believers are defeated and harmed. This causes pessimism among some of them. But in such adversities, God’s providence lies hidden; they occur so that man’s repentance will be the greater and, in turning to God, he will make himself more deserving of His benevolence.
دین میں جتنے اعمال بتائے گئے خواہ وہ نماز اور زکوۃ کی قسم سے ہوں یا تبلیغ اور جہاد کی قسم سے، سب کا آخری مقصود اللہ کی یاد ہے۔ تمام اعمال کا اصل مدعا یہ ہے کہ ایسا انسان تیار ہو جو اس طرح جئے کہ خدا اس کی یادوں میں بسا ہوا ہو۔ زندگی کا ہر موڑ اس کو خدا کی یاد دلانے والا بن جائے۔ اندیشہ کا موقع اس کو اللہ سے ڈرائے، امید کا موقع اس کے اندر اللہ کا شوق پیدا کرے۔ اس کا بھروسہ اللہ پر ہو۔ اس کی توجهات اللہ کی طرف لگی ہوئی ہوں۔ جو چیز ملے اس کو وہ اللہ کی طرف سے آئی ہوئی جانے اور جو چیز نہ ملے اس کو اللہ کے حکم کا نتیجہ سمجھے۔ اس کی پوری اندرونی ہستی اللہ کے جلال وجمال میں کھوئی ہوئی ہو۔ یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ جنگ کے نازک ترین موقع پر بھی کسی نہ کسی شکل میں نماز ادا کرنے کا حکم ہوا تاکہ موت کے کنارے کھڑے ہو کر انسان کو یاد دلایا جائے کہ وہ اصل چیز کیا ہے جو بندے کو اس دنیا سے لے کر اپنے رب کے پاس جانا چاہیے۔
اہل ایمان کا بھروسہ اگرچہ تمام تر اللہ پر ہوتا ہے ۔ مگر اسی کے ساتھ حکم ہے کہ دشمنوں سے اپنے بچاؤ کا ظاہری سامان مہیا رکھو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی مدد ظاہری سامان کے اندر ہو کر ہی آتی ہے۔ اہل ایمان نے اگر اپنے بچاؤ کا ممکن انتظام نہ کیا ہو تو گویا انھوںنے وہ شکل ہی کھڑی نہیں کی جس کے ڈھانچے میں اللہ کی مدد اتر کر ان کی طرف آئے۔ مومن کو دنیا میں جو مصیبتیں پیش آتی ہیں وہ اللہ کے منصوبہ کی قیمت ہیں کہ وہ آزمائشی حالات پیدا کرکے دیکھے کہ کون سچائی پر قائم رہنے والا ہے اور کون دوسروں کو ناحق ستانے والا۔
اسلام اور غیر اسلام کی کش مکش میں کبھی اہل اسلام کو شکست اور نقصان پہنچ جاتا ہے۔ اس وقت کچھ لوگ پست ہمت ہونے لگتے ہیں۔ مگر ایسے حادثات میں بھی اللہ کی مصلحت شامل رہتی ہے۔ وہ اس لیے پیش آتے ہیں کہ بندہ کے اندر مزید انابت اور توجہ ابھرے اور اس کے نتیجہ میں وہ اللہ کی مزید عنایتوں کا مستحق بنے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →