۞وَإِذَا مَسَّ ٱلۡإِنسَٰنَ ضُرّٞ دَعَا رَبَّهُۥ مُنِيبًا إِلَيۡهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُۥ نِعۡمَةٗ مِّنۡهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدۡعُوٓاْ إِلَيۡهِ مِن قَبۡلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَندَادٗا لِّيُضِلَّ عَن سَبِيلِهِۦۚ قُلۡ تَمَتَّعۡ بِكُفۡرِكَ قَلِيلًا إِنَّكَ مِنۡ أَصۡحَٰبِ ٱلنَّارِ
And when adversity touches man, he calls upon his Lord, turning to Him [alone]; then when He bestows on him a favor from Himself, he forgets Him whom he called upon before, and he attributes to Allah equals to mislead [people] from His way. Say, "Enjoy your disbelief for a little; indeed, you are of the companions of the Fire
Every man passes through times when he finds himself utterly helpless. At this juncture, he forgets everything and starts appealing to God. In this way, in times of helplessness, every man comes to know that there is nobody worth worshipping except the one and only God. But, as soon as he is out of trouble, he resorts to his earlier ways. Man only becomes more arrogant and starts attributing his relief from affliction to beings other than God. For Some it becomes the miracle of cause and effect, while for others it is a feat of supposed gods. If a man keeps quiet after making a mistake, it involves the misguidance of only one man. But, if he starts giving false explanations in order to justify his mistakes, he becomes one who misleads others.
ہر آدمی پر ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگتاہے۔ وہ جن چیزوں کو اپنا سہارا سمجھ رہا تھا وہ بھی اس نازک لمحہ میں اس کے مدد گار نہیں بنتے۔ اس وقت آدمی سب کچھ بھول کر خدا کو پکارنے لگتاہے۔ اس طرح مصیبت کی گھڑیوں میں ہر آدمی جان لیتاہے کہ ایک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مگر مصیبت دور ہوتے ہی وہ دوبارہ پہلے کی طرح بن جاتاہے۔
انسان کی مزید سرکشی یہ ہے کہ وہ اپنی نجات کو خدا کے سوا دوسری چیزوں کی طرف منسوب کرنے لگتاہے۔ کچھ لوگ اس کو اسباب کا کرشمہ بتاتے ہیں اور کچھ لوگ فرضی معبودوں کا کرشمہ۔ آدمی اگر غلطی کرکے خاموش رہے تو یہ صرف ایک شخص کا گمراہ ہونا ہے۔ مگر جب وہ اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کےلیے اس کی جھوٹی توجیہ کرنے لگے تو وہ گمراہ ہونے کے ساتھ گمراہ کرنے والا بھی بنا۔
ایک انسان وہ ہے جس کو صرف مادی غم بے قرار کرے۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کو خدا کی یاد بے قرار کردیتی ہو۔ یہی دوسرا انسان دراصل خدا والا انسان ہے۔ اس کا اقرارِ خدا حالات کی پیداوار نہیں ہوتا، وہ اس کی شعوری دریافت ہوتا ہے۔ وہ خدا کو ایک ایسی برتر ہستی کی حیثیت سے پاتا ہے کہ اس کی امیدیں اور اس کے اندیشے سب ایک خدا کی ذات کے ساتھ وابستہ ہوجاتے ہیں۔ اس کی بے قراریاں رات کے لمحات میں بھی ا س کو بستر سے جدا کردیتی ہیں۔ اس کی تنہائی غفلت کی تنہائی نہیں ہوتی بلکہ خدا کی یاد کی تنہائی بن جاتی ہے۔
علم والا وہ ہے جس کی نفسیات میں خدا کی یاد سے ہلچل پیدا ہوتی ہو،اور بے علم والا وہ ہے جس کی نفسیات کو صرف مادی حالات بیدار کریں۔ وہ مادی جھٹکوں سے جاگے اور اس کے بعد دوبارہ غفلت کی نیند سو جائے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →