إِلَّا عِبَادَكَ مِنۡهُمُ ٱلۡمُخۡلَصِينَ
Except, among them, Your chosen servants
The chosen (mukhlas) subject of God is one who is free of mental perversion. While Satan has no practical power over man, he misguides human beings by supplying plausible justification for their wrong deeds; presenting untruth as Truth; enshrouding baseless facts in beautiful words; raising unnecessary issues in straightforward matters and raising doubts. However, only those who harbour complexes will be deceived by this beautification of Satan (taz’in). Those who retain their sincerity and are wise enough to objectively analyse a situation will immediately detect Satan’s machinations. Such people are never misled by Satan’s ruses.
موجودہ امتحان کی دنیا میں شیطان کو پورا موقع دیا گیا ہے کہ وہ انسان کو بہکائے۔مگر شیطان اسی وقت تک بہکا سکتاہے جب تک حقیقت غیب میں چھپی ہوئی ہو۔ قیامت جب غیب کا پردہ پھاڑے گی تو سب کچھ سامنے آجائے گا۔ اس کے بعد نہ کوئی بہکانے والا باقی رہے گا اور نہ کوئی بہکنے والا۔
مخلص کا مطلب ہے کھوٹ سے خالی ہونا۔ عبد مخلص وہ ہے جو نفسیاتی بیماریوں سے پاک ہو۔ شیطان کا معاملہ یہ ہے کہ اس کو کوئی عملی زور حاصل نہیں۔ وہ ہمیشہ تزئین کے ذریعہ انسانوں کو بہکاتا ہے۔ یعنی باطل کو حق کے روپ میں دکھانا۔ بے اصل باتوں کو خوبصورت الفاظ میں پیش کرنا۔ سیدھی بات میں شوشہ نکال کر لوگوں کو اس کی طرف سے مشتبہ کردینا۔ تاہم شیطان کی اس تزئین سے وہی لوگ فریب کھاتے ہیں جو اپنے اندر نفسیاتی کھوٹ ليے ہوئے ہوں۔ اور جو لوگ اپنی نفسیات کو اس کی فطری حالت پر باقی رکھیں اور اپنی عقل کو کھلے طورپر استعمال کریں وہ فوراً شیطانی فریب کو پہچان لیتے ہیں۔ وہ کبھی اس کی تزئین سے گمراہ نہیں ہوتے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →