أَءُنزِلَ عَلَيۡهِ ٱلذِّكۡرُ مِنۢ بَيۡنِنَاۚ بَلۡ هُمۡ فِي شَكّٖ مِّن ذِكۡرِيۚ بَل لَّمَّا يَذُوقُواْ عَذَابِ
Has the message been revealed to him out of [all of] us?" Rather, they are in doubt about My message. Rather, they have not yet tasted My punishment
God’s blessing of guidance is not meted out in such a way that one who is favoured with worldly greatness is also granted God’s guidance. If worldly greatness were enough to make people great in the eyes of God, it would have become possible for them to confer God’s grace on anybody they liked, while withholding blessings from all others. But the fact is that God bestows His grace by His own standards and not by those laid down by human beings on the basis of appearances.
’’پیغمبر اسلام‘‘کا نام آج ایک عظیم نام ہے۔ کیوں کہ بعد کی پرعظمت تاریخ نے اس کو عظیم بنادیا ہے۔ مگر ابتدا میں جب آپ نے مکہ میں نبوت کا دعویٰ کیا تو لوگوں کو آپ صرف ایک معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ لوگوں کےلیے یہ یقین کرنا مشکل ہوگیا کہ یہی معمولی آدمی وہ شخص ہے جس کو خدا نے اپنے کلام کا مہبط بننے کےلیے چنا ہے— جب تاریخ بن چکی ہو تو ایک اندھا آدمی بھی پیغمبر کو پہچان لیتاہے۔ مگر تاریخ بننے سے پہلے پیغمبر کو پہچاننے کےلیے جوہر شناسی کی صلاحیت درکار ہے، اور یہ صلاحیت وہ ہے جو ہر دور میں سب سے زیادہ کم پائی گئی ہے۔
قرآن کا غیر معمولی طورپر موثر کلام، قرآن کے مخالفین کو مبہوت کردیتا تھا۔ مگر صاحب قرآن کی معمولی تصویر دوبارہ انھیں شبہ میں ڈال دیتی تھی۔ اس ليے وہ اس کو رد کرنے کےلیے طرح طرح کی باتیں کرتے تھے۔ کبھی اس کو جادوگر کہتے، کبھی جھوٹا بتاتے، کبھی کہتے کہ اس کے پیچھے کوئی مادی غرض شامل ہے، کبھی کہتے کہ ایسا کیوںکر ہوسکتاہے کہ ہمارے بڑے بڑے بزرگوں کی بات صحیح نہ ہو اور اس معمولی آدمی کی بات صحیح ہو۔
’’اپنے معبودوں پر جمے رہو‘‘ کا لفظ بتاتاہے کہ دلیل کے میدان میں وہ اپنے آپ کو عاجز پا رہے تھے، اس ليے انھوں نے تعصب کے نعرہ پر اپنے لوگوں کو قرآنی سیلاب سے بچانے کی کوشش کی۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →