۞أَلَمۡ أَعۡهَدۡ إِلَيۡكُمۡ يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ أَن لَّا تَعۡبُدُواْ ٱلشَّيۡطَٰنَۖ إِنَّهُۥ لَكُمۡ عَدُوّٞ مُّبِينٞ
Did I not enjoin upon you, O children of Adam, that you not worship Satan - [for] indeed, he is to you a clear enemy
In the present life, good people and bad people live in the same world. But in the life of the Hereafter, these two groups will be separated; the followers of Satan will be with Satan and the subjects of the Most Beneficent God will be with God. Nobody worships Satan per se, but the worshipper of anybody other than God is in fact indirectly the worshipper of Satan.
موجودہ زندگی میںاچھے لوگ اور برے لوگ ایک ہی دنیا میں رہتے ہیں۔ اگلی زندگی میں دونوں کی دنیائیں الگ الگ کردی جائیں گی۔ شیطان کے بندے شیطان کے ساتھ اور رحمان کے بندے رحمان کے ساتھ۔
کوئی آدمی شیطان کے نام پر شیطان کی پرستش نہیں کرتا۔ مگر بالواسطہ طورپر غیر اللہ کا ہر پرستار دراصل شیطان کا پرستار ہے۔ کیونکہ وہ شیطان ہی کی تزئین کے تحت ایسا کررہا ہے۔ مثلاً فرشتوں اور قومی بزرگوں کی پرستش اس طرح شروع ہوئی کہ شیطان نے ان کے بارے میں جھوٹے عقیدے لوگوں کے ذہن میں ڈالے اور لوگ ان شیطانی ترغیبات سے متاثر ہو کر ان کی پرستش کرنے لگے۔
جدید تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسان کی کھال ایک قسم کا ریکارڈر ہے جس پر آدمی کی بولی ہوئی آوازیں مرتسم ہوجاتی ہیں اور ان کو دہرایا جاسکتاہے۔ یہ ایک نشانی ہے جو اس بات کو قابل فہم بنارہی ہے کہ کس طرح آخرت میں آدمی کے ہاتھ اور پاؤں آدمی کے احوال سنانے لگیں گے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →