إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَمَاتُواْ وَهُمۡ كُفَّارٞ فَلَن يُقۡبَلَ مِنۡ أَحَدِهِم مِّلۡءُ ٱلۡأَرۡضِ ذَهَبٗا وَلَوِ ٱفۡتَدَىٰ بِهِۦٓۗ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ
Indeed, those who disbelieve and die while they are disbelievers - never would the [whole] capacity of the earth in gold be accepted from one of them if he would [seek to] ransom himself with it. For those there will be a painful punishment, and they will have no helpers
Not acknowledging any truth external to their community appears to be a bid to save their faith. But in actuality it destroys their faith. God’s true believer lives on God’s continuous inspiration, so that one who confines himself to self-worship and community-worship will be blocking all paths to God’s blessing entering into him. After being deprived of God’s inspiration, what will there be left with which to nurture his faith?
اللہ کو پانا ایک ابدی حقیقت کو پانا ہے،یہ پوری کائنات کا ہم سفر بننا ہے۔ جو لوگ اس طرح اللہ کو پالیں وہ ہر قسم کے تعصبات سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ وہ حق کو ہر حال میں پہچان لیتے ہیں، چاہے اس کا پیغام ’’اسرائیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے بلند ہو یا ’’اسماعیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے۔ مگر جو لوگ گروہ پرستی کی سطح پر جی رہے ہوں، حق ان کو حق کی صورت میں صرف اس وقت نظر آتا ہے جب کہ وہ ان کے اپنے گروہ کے کسی فرد کی طرف سے آئے۔ اللہ اگر ان کے گروہ سے باہر کسی شخص کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لیے اٹھائے تو ایسا پیغام ان کے ذہن کا جزء نہیں بنتا۔ حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ ان کا دل اس کے حق وصداقت ہونے کی گواہی دے رہا ہو۔ ایسے لوگ خواہ اپنے کو ماننے والوں میں شمار کریں مگر اللہ کے یہاں ان کا نام نہ ماننے والوں میں لکھا جاتا ہے۔ کیوں کہ انھوں نے حق کو اپنے گروہ کی نسبت سے جانا، نہ کہ اللہ کی نسبت سے۔ ایسے حق کا اقرار نہ کرنا جس کے حق ہونے پر آدمی کے دل نے گواہی دی ہو، اللہ کے نزدیک بدترین جرم ہے۔ ایسے لوگ آخرت میں اتنے ذلیل ہوں گے کہ اللہ اور اس کی تمام مخلوقات ان پر لعنت کریں گی۔
اپنے سے باہر ظاہر ہونے والے حق کاا عتراف نہ کرنا بظاہر اپنے ایمان کو بچانا ہے۔ مگر حقیقۃً یہ اپنے ایمان کو برباد کرنا ہے۔ اللہ کا مومن بندہ اللہ کے مسلسل فیضان پر جیتا ہے۔ پھر جو شخص اپنے کو خود پرستی اور گروہ پرستی کے خول میں بند کرلے اس کے اندر اللہ کا فیضان کس راستہ سے داخل ہوگا۔ اور اللہ کے فیضان سے محرومی کے بعد وہ کیا چیز ہوگی جو اس کے ایمان کی پرورش کرے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →