۞وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ مَنۡ إِن تَأۡمَنۡهُ بِقِنطَارٖ يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيۡكَ وَمِنۡهُم مَّنۡ إِن تَأۡمَنۡهُ بِدِينَارٖ لَّا يُؤَدِّهِۦٓ إِلَيۡكَ إِلَّا مَا دُمۡتَ عَلَيۡهِ قَآئِمٗاۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُواْ لَيۡسَ عَلَيۡنَا فِي ٱلۡأُمِّيِّـۧنَ سَبِيلٞ وَيَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ
And among the People of the Scripture is he who, if you entrust him with a great amount [of wealth], he will return it to you. And among them is he who, if you entrust him with a [single] silver coin, he will not return it to you unless you are constantly standing over him [demanding it]. That is because they say, "There is no blame upon us concerning the unlearned." And they speak untruth about Allah while they know [it]
Being particularly chosen to represent His religion is one of the special blessings of God. Such a choice is not based on one’s belonging to a certain community. The recipient of this blessing is one whom God selects for his spiritual virtues. And God likes one who is so attached to Him and who so fears Him that He becomes his Keeper, and his Lord in the true sense of these words. Indeed, when the believer enters into a covenant with his Creator, he is not able to go back. God’s chosen servants are those who fulfill their trusts and do not break their promises. It is people such as these who are showered with God’s blessings. On the contrary, those who are careless in the fulfillment of trusts and are negligent about keeping their promises are of no value in the eyes of God. They will be denied God’s mercies and blessings.
ایک گروہ جس میں انبیا اور صلحا پیدا ہوئے ہوں، جس کے درمیان عرصہ تک دین کا چرچا رہے، اکثر وہ اس غلط فہمی میںپڑ جاتا ہے کہ وہ اور حق دونوں ایک ہیں۔ وہ ہدایت کوایک گروہی چیز سمجھ لیتا ہے، نہ کہ اصولی چیز۔ یہود کا معاملہ یہی تھا۔ ان کا ذہن، تاریخی روایات کے اثر سے یہ بن گیا تھا کہ جو ہمارے گروہ میں ہے وہ ہدایت پر ہے اور جو ہمارے گروہ سے باہر ہے وہ ہدایت سے خالی ہے۔ جو لوگ حق کو اس طرح گروہی چیز سمجھ لیں وہ ایسی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے جو ان کے گروہ کے باہر ظاہر ہوئی ہو۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ حق وہ ہے جو اللہ کی طرف سے آئے، نہ کہ وہ جو کسی شخص یا گروہ کی طرف سے ملے۔وہ اگر چہ دین خداوندی کا نام لیتے ہیں مگر ان کا دین حقیقۃ ً گروہ پرستی ہوتا ہے، نہ کہ خدا پرستی۔ ان کا یہ مزاج ان کی آنکھ پر ایسا پردہ ڈال دیتا ہے کہ اپنے گروہ سے باہر کسی کا فضل وکمال انھیں دکھائی نہیں دیتا۔ کھلے کھلے دلائل سامنے آنے کے بعد بھی وہ اس کو شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے حلقہ سے باہر اٹھنے والی دعوتِ حق کے شدید مخالف بن جاتے ہیں —دو عملی کا طریقہ اختیار کرکے وہ اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بے بنیاد باتیں مشہور کرکے لوگوں کو اس کی صداقت کے بارے میں مشتبہ کرتے ہیں۔ شریعت خداوندی کے سراسر خلاف وہ اپنے لیے اس کو جائز کر لیتے ہیں کہ وہ اخلاق کے دو معیار بنائیں، ایک غیروںکے لیے، دوسرا اپنے گروہ کے لیے۔
کسی کو اپنے دین کی نمائندگی کے لیے قبول کرنا اللہ کی خصوصی رحمت ہے۔اس کا فیصلہ گروہی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ یہ سعادت اس کو ملتی ہے جس کو اللہ اپنے علم کے مطابق پسند کرے۔ اور اللہ اس شخص کو پسند کرتا ہے جو اللہ کے ساتھ اپنے کو اس طرح وابستہ کرلے کہ وہ اس کا نگراں بن جائے جس سے وہ ڈرے، وہ اس کا آقا بن جائے جس کے ساتھ کيے ہوئے عہد اطاعت کو وہ کبھی نظر انداز نہ کرسکے — اللہ کے مقبول بندے وہ ہیں جو امانت کو پورا کرنے والے ہوں اور عہد کے پابند ہوں۔ ایسے ہی لوگوں پر اللہ کی رحمتیں اترتی ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ امانت کی ادائیگی کے معاملہ میں بے پروا ہوں اور عہد کو پورا کرنے میں حسّاس نہ رہیں وہ اللہ کے یہاں بے قیمت ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے دور کرديے جاتے ہیں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →