يَـٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَمَآ أُنزِلَتِ ٱلتَّوۡرَىٰةُ وَٱلۡإِنجِيلُ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِهِۦٓۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ
O People of the Scripture, why do you argue about Abraham while the Torah and the Gospel were not revealed until after him? Then will you not reason
The concept of monotheism is not only a basic teaching of the Prophet Muhammad but is also enshrined as an established reality, even in the interpolated versions of the Torah and the Bible. Judged on this established criterion, Islam, unlike Judaism and Christianity, is proved to be a perfectly true religion. Monotheism implies belief in only one God. He alone should be worshipped. No one should be associated with Him. No man should be accorded that special place which is the sole prerogative of the Lord of the Universe. This concept of monotheism is preserved in its pure form only in Islam in the Quran. Other religions, while accepting monotheism ideologically, also adopted almost everything that ran counter to it. While believing in God as the Sustainer, in practice they accorded that status to their saints.
توحید نہ صرف پیغمبروں کی اصل تعلیم ہے بلکہ تورات اور انجیل کے موجودہ غیر مستند نسخوں میں بھی وہ ایک مسلّم حقیقت کے طورپر موجود ہے۔ اس مسلّمہ معیار پر جانچا جائے تو اسلام ہی کامل طورپر صحیح دین ثابت ہوتا ہے، نہ کہ یہودیت اور نصرانیت۔ توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو ایک ماناجائے۔ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ کسی انسان کو وہ مقام نہ دیا جائے جو مالک کائنات کے لیے خاص ہے۔ یہ توحید اپنی خالص صورت میں صرف قرآن اور اسلام میں محفوظ ہے۔ دوسرے مذاہب نے نظری طورپر توحید کا اقرار کرتے ہوئے عملی طورپر وہ سب کچھ اختیار کرلیا جو توحید کے سراسر خلاف تھا۔ زبان سے خدا کو رب کہتے ہوئے انھوںنے اپنے نبیوں او ر بزرگوں کو عملاً رب کا درجہ دے دیا۔
مکہ کے مشرکین اپنے مذہب کو ابراہیمی مذہب کہتے تھے۔ یہود ونصاریٰ بھی اپنی مذہبی تاریخ کو حضرت ابراہیم کے ساتھ جوڑتے تھے۔ ہر زمانہ کے لوگ اسی طرح اپنے نبیوں اور بزرگوں کے نام کو اپنی بدعات اور تحریفات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ زمانہ گزرنے کے بعد ان کا بنایاہوا مذہب عوام کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ اسی کو اصل مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان حالات میں جب سچے اور بے آمیز دین کی دعوت اٹھتی ہے تو اس کے مخالفین اس کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں یہ مشہور کردیں کہ وہ اسلاف کے دین کے خلاف ہے۔ وہ شخص جو ’’اسلاف‘‘ کے دین کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے اس کو خود اسلاف ہی کے نام پر رد کردیا جاتا ہے۔ یہ گویا حق کے اوپر باطل کا پردہ ڈالنا ہے۔ یعنی ایسی باتیں کہنا جو فی نفسہٖ بے حقیقت ہوں مگر عوام تجزیہ نہ کرسکنے کی وجہ سے اس کو درست سمجھ لیں اور حق سے دور ہوجائیں۔ ’’مسلم حنیف‘‘ وہ ہے جو توحید کے راستہ پر یکسو ہو کر چلے اور غیرحنیف وہ ہے جو دائیں بائیں کی پگڈنڈیوں پر مڑجائے۔ کوئی ایک ذیلی پہلو کو لے کر اتنا بڑھائے کہ اسی کو سب کچھ بنا دے۔ کوئی دوسرے ذیلی پہلو کو لے کر اس پر اتنے تشریحی اضافے کرے کہ وہی ساری حقیقت نظر آنے لگے۔ لوگ دین کے ذیلی پہلوؤں کو کُل دین سمجھ لیں اور توحید کی سیدھی شاہراہ کو چھوڑ کر اِدھر اُدھر کے راستوں میں دوڑنے لگیں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →