أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُواْ نَصِيبٗا مِّنَ ٱلۡكِتَٰبِ يُدۡعَوۡنَ إِلَىٰ كِتَٰبِ ٱللَّهِ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٞ مِّنۡهُمۡ وَهُم مُّعۡرِضُونَ
Do you not consider, [O Muhammad], those who were given a portion of the Scripture? They are invited to the Scripture of Allah that it should arbitrate between them; then a party of them turns away, and they are refusing
God’s guidance is one and the same as that revealed to various prophets from time to time in various languages. The same guidance was revealed to the Final Prophet in the form of the Quran. Due to this uniformity in content, recognizing the call of the Quran is not difficult for the People of the Book, i.e. believers in other revealed scriptures. The only difference between the Quranic call and former divine scriptures lies in the fact that the Quran has purified the religion of God of all human interpolations. Then why is it that many people deny the call of the Quran? It is because the Quranic call does not appear to them to be a serious matter, vis à vis their self-styled concepts by which they feel that they have safeguarded themselves from the fire of hell. It is as a result of this mindset that they think that, even if they do not recognize the truth, their salvation is still not at risk. But when the divine scales are put in place, they will realize how deluded they were in their wishful thinking.
اللہ کی ہدایت ایک ہی ہدایت ہے جو مختلف قوموں کی زبان میں ان کے پیغمبروں پر اتاری جاتی رہی ہے۔ وہی قرآن کی صورت میں پیغمبر آخر الزماں پر اتاری گئی ہے۔ اس یکسانیت کی وجہ سے آسمانی کتابوں کو جاننے اور ماننے والوں کے لیے قرآن کی دعوت کو پہچاننا مشکل نہیں۔ قرآن کی دعوت میں اور پچھلی آسمانی تعلیمات میں اگر کچھ فرق ہے تو صرف یہ کہ قرآن کی دعوت ان کی اپنی ملاوٹوںسے دین خداوندی کو پاک کررہی ہے۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ بہت سے لوگ قرآن کی دعوت کا انکار کررہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی دعوت کو وہ اپنے لیے کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھتے۔ اپنے خود ساختہ عقائد کی بنا پر انھوںنے اپنے کو جہنم کی آگ سے محفوظ فرض کرلیا ہے۔ اپنی اس نفسیات کے تحت وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اس حق کا اعتراف نہ کریں تو اس سے ان کی نجات خطرہ میں پڑنے والی نہیں۔ مگر جب خدا کے انصاف کا ترازو کھڑا ہوگا اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ وہ محض خوش خیالیوں کے اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے۔
ہر قسم کی عزت وطاقت اللہ کے اختیار میں ہے۔ وقت کے بڑے جس کو بے حقیقت سمجھ لیں، خدا چاہے تو اسی کے حق میں عزت وسر بلندی کا فیصلہ کردے۔ علم کی گدیوں پر بیٹھنے والے جس کے جہل کا فتویٰ دیں، خدا چاہے تو اسی کے ذریعہ علم کا چشمہ جاری کردے۔ خدا کی نظر میں اگر کوئی عزت وطاقت کا مستحق ہوسکتا ہے تو وہ جو اس کو خالص خدا کی چیز سمجھے ا ور خدا کی نظر میں اس کا سب سے زیادہ غیر مستحق اگر کوئی ہے تو وہ جو اس کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لے۔ خدا وسیع تر کائنات میں روزانہ بہت بڑے پیمانہ پر یہ کرشمہ دکھا رہا ہے کہ وہ تاریکی کو روشنی کے اوپر اوڑھا دیتا ہے اور روشنی کو تاریکی کے اوپر ڈال دیتا ہے۔ وہ مردہ عناصر سے زندگی وجود میں لاتا ہے اور زندہ چیزوں کو مردہ عناصر میں تبدیل کرتا ہے۔ خدا کی یہی قدرت اگر انسانی تاریخ میں ظاہر ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ جو لوگ حق کے نام پر ناحق کا کاروبار کررہے ہوں وہ ہمیشہ سچی دعوتِ حق کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ ایسے داعی کو بے گھر کیا جاتا ہے۔ اس کے معاشی ذرائع برباد کيے جاتے ہیں۔ مگر ایسا شخص براہِ راست اللہ کی سرپرستی میں ہوتا ہے۔ وہ اس کے لیے خصوصی رزق کا انتظام کرتا ہے۔ دوسروں کو ان کی معاشی محنت کے حساب سے رزق دیا جاتا ہے، اور ایسے شخص کو بلا حساب۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →