رَّبَّنَآ إِنَّنَا سَمِعۡنَا مُنَادِيٗا يُنَادِي لِلۡإِيمَٰنِ أَنۡ ءَامِنُواْ بِرَبِّكُمۡ فَـَٔامَنَّاۚ رَبَّنَا فَٱغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرۡ عَنَّا سَيِّـَٔاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ ٱلۡأَبۡرَارِ
Our Lord, indeed we have heard a caller calling to faith, [saying], 'Believe in your Lord,' and we have believed. Our Lord, so forgive us our sins and remove from us our misdeeds and cause us to die with the righteous
Those who think deeply, seeking a more profound reality, find it unthinkable that a meaningful universe should have a meaningless end. They discover, that the message conveyed by the preacher is the announcement, in human language, of the same reality, which is being silently proclaimed by the whole universe. The greatest issue is that when the truth is unveiled, and the ‘sun’ of justice makes its appearance, they should not be left deprived and destitute. So when the truth appears, they rush towards it, remembering God. By breaking all personal bonds and ridding their thoughts of worldly considerations, they become one with the preacher of truth; so that in the next world, when the ‘darkness’ and the ‘light’ of the universe are separated, the Lord of the universe will make them inhabit the light, and will not abandon them to fumble eternally in the dark. The true measure of wisdom and unwisdom is wholly different from the one devised by human beings on their own. Here a wise man is one who lives in the remembrance of God, who can discover the divine meaningfulness at work in the creation plan of the universe. On the contrary, the unwise man is one who keeps his mind engaged in other more material things, who lives in this world as if he is totally unaware of the creation plan of the Lord of the Universe.
کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک خاموش اعلان ہے۔ آدمی جب اپنے کان اور آنکھ سے مصنوعی پردوں کو ہٹاتا ہے تو وہ اس خاموش اعلان کو ہر طرف سننے اور دیکھنے لگتا ہے۔ اس کو ناممکن نظر آتا ہے کہ ایک ایسی کائنات جس کے ستارے اور سیارے کھربوں سال تک بھی ختم نہیں ہوتے وہاں انسان اپنی تمام خواہشوں اور تمناؤں کو لیے ہوئے صرف پچاس سال اور سو سال میں ختم ہوجائے۔ ایک ایسی دنیا جہاں درختوں کا حسن اور پھولوں کی لطافت ہے۔ جہاں ہوا اور پانی اور سورج جیسی بے شمار بامعنی چیزوں کا اہتمام کیاگیا ہے وہاںانسان کے لیے حزن اور غم کے سوا کوئی انجام نہ ہو۔ پھر یہ بھی اس کو ناممکن نظر آتا ہے کہ ایک ایسی دنیا جہاں یہ اتھاہ امکان رکھا گیا ہے کہ یہاں ایک چھوٹا سا بیج زمین میںڈالا جائے تو اس کے اندر سے ہرے بھرے درخت کی ایک پوری کائنات نکل آئے وہاں آدمی نیکی کی زندگی اختیار کرکے بھی اس کا کوئی پھل نہ پاتا ہو۔ ایک ایسی دنیا جہاں ہر روز تاریک رات کے بعد روشن دن آتا ہے وہاں صدیاں گزر جائیں اور عدل وانصاف کا اجالا اپنی چمک نہ دکھائے۔ ایک ایسی دنیا جس کی گود میں زلزلے اور طوفان سورہے ہیں۔ وہاں انسان ظلم پر ظلم کر تا رہے مگر کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا سامنے نہ آئے۔ جو لوگ حقیقتوں میں جیتے ہیں اور گہرائیوں میں اتر کر سوچتے ہیں ان کے لیے ناقابلِ یقین ہوجاتا ہے کہ ایک بامعنی کائنات بے معنی انجام پر ختم ہوجائے۔ وہ جان لیتے ہیں کہ حق کا داعی جو پیغام دے رہا ہے وہ نطق کی زبان میں اسی بات کا اعلان ہے، جو خاموش زبان میں ساری کائنات میں نشر ہورہا ہے۔ ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ بن جاتا ہے کہ جب سچائی کھلے اور جب انصاف کا سورج نکلے تو اس دن وہ ناکام و نامراد نہ ہوجائیں، وہ اپنے رب کو پکارتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں، وہ مفاد اور مصلحت کی تمام حدود کو توڑ کر داعی حق کے ساتھ ہوجاتے ہیں۔ تاکہ جب کائنات کا ’’اجالا‘‘ اور کائنات کا ’’اندھیرا‘‘ ایک دوسرے سے الگ کيے جائیں تو کائنات کا مالک ان کو اجالے میں جگہ دے، وہ ان کو اندھیرے میں ٹھوکریں کھانے کے لیے نہ چھوڑے۔
عقل اور بے عقلی کا حقیقی پیمانہ اس سے بالکل مختلف ہے جو انسانوں نے بطور خود بنا رکھا ہے۔ یہاں عقل والا وہ ہے جو اللہ کی یاد میں جئے، جو کائنات کے تخلیقی منصوبہ میںکام کرنے والی خدائی معنویت کو پالے۔ اس کے برعکس، بے عقل وہ ہے جو اپنے دل ودماغ کو دوسری دوسری چیزوں میں اٹکائے، جو دنیا میں اس طرح زندگی گزارے جیسے کہ ا س کو مالک کائنات کے تخلیقی منصوبہ کی خبر ہی نہیں۔