وَإِذۡ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهُۥ لِلنَّاسِ وَلَا تَكۡتُمُونَهُۥ فَنَبَذُوهُ وَرَآءَ ظُهُورِهِمۡ وَٱشۡتَرَوۡاْ بِهِۦ ثَمَنٗا قَلِيلٗاۖ فَبِئۡسَ مَا يَشۡتَرُونَ
And [mention, O Muhammad], when Allah took a covenant from those who were given the Scripture, [saying], "You must make it clear to the people and not conceal it." But they threw it away behind their backs and exchanged it for a small price. And wretched is that which they purchased
When a decline sets in in the bearers of a revealed Book, it in no way means that they have entirely severed their bond with God or His messenger. This is not possible, because religion becomes a part of the traditions of a community. It becomes a great national asset and a matter of tremendous pride. And once such a communal and national link is established with something, disassociation from it is just not possible for any group. However, this association with traditions in the name of religion is purely formal and lacks in genuine religiosity, for all worldly activities continue to be engaged in in the name of religion. Even when members of certain societies have nothing to do with religion, they want to be called religious. They want to take credit for things they have not done. Having no real concern for eternal salvation, they develop such concepts as appear to show that their salvation is certain. They follow a self-made religion, but call themselves upholders of divine religion. They are busy in activities serving worldly ends, but call these activities Hereafter-oriented. They call their self-styled politics divinely guided politics, declaring that they have been moved to action for the betterment of the ummah (community), whereas, in reality they do little more than serve their own national interests. One cannot save oneself from the chastisement of God by giving one’s irreligiousness the name of religion. When man remains engrossed in worldly pursuits, oblivious of matters which are important in view of the Hereafter, he is going astray, but when he engages himself in worldly pursuits in the name of God, or the Prophet, he is adding insult to injury, because he wants to be given credit for a faith which is hollow and actions which are false.
ایمان کا سفر آدمی کو ایسی دنیا میںطے کرنا ہوتا ہے جہاں اپنوں اور غیروں کی طرف سے طرح طرح کے زخم لگتے ہیں۔ مگر مومن کے لیے ضروری ہوتاہے کہ رد عمل کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو، وہ ہر صورت حال کا مثبت جواب دیتے ہوئے آگے بڑھتا رہے۔ لوگوں کی طرف سے اشتعال دلانے والے مواقع پیش آتے ہیں مگر وہ پابند ہوتا ہے کہ ہر قسم کے جھٹکوں کو اپنے اوپر سہے اور جوابی ذہن کے تحت کوئی کارروائی نہ کرے۔ بار بار ایسے معاملات سامنے آتے ہیں جب کہ دل کہتا ہے کہ حدود خداوندی کو توڑ کر اپنا مدعا حاصل كيا جائے مگر اللہ کا ڈر اس کے قدموں کو روک دیتا ہے۔اسی طرح دین کی مختلف ضرورتیں سامنے آتی ہیں اور جان ومال کی قربانی کا تقاضا کرتی ہیں۔ ایسے مواقع پر آسان دین کو چھوڑ کر مشکل دین کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ یہ واقعہ ایمان کے سفر کو ہمت اور عالی حوصلگی کا زبردست امتحان بنا دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن بننا اپنے آپ کو صبر اور تقویٰ کے امتحان میںکھڑا کرنا ہے۔ جواس امتحان میں پورا اترا وہی وہ مومن بنا جس کے لیے آخرت میں جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔
آسمانی کتاب کے حامل کسی گروہ پر جب زوال آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ وہ خدا ورسول کا نام لینا چھوڑ دے یا خدا کی کتاب سے اپنی بےتعلقی کا اعلان کردے۔ دین ایسے گروہ کی نسلی روایات میں شامل ہوجاتا ہے۔ وہ اس کا پُر فخر قومی اثاثہ بن جاتا ہے۔اور جس چیز سے اس طرح کا نسلی اور قومی تعلق قائم ہوجائے اس سے علیحدگی کسی گروہ کے لیے ممکن نہیں ہوتی۔ تاہم اس کا یہ تعلق محض رسمی تعلق ہوتا ہے، نہ کہ فی الواقع حقیقی تعلق۔ وہ اپنی دنیوی سرگرمیاں بھی دین کے نام پر جاری کرتے ہیں۔ وہ بے دین ہو کر بھی اپنےکو دین دار کہلانا چاہتے ہیں۔ وہ چاہنے لگتے ہیں کہ ان کو اس کام کا کریڈٹ دیا جائے جس کو انھوں نے کیا نہیں۔ وہ نجاتِ اُخروی سے بے فکر ہو کر زندگی گزارتے ہیں اور اسی کے ساتھ ایسے عقیدے بنا لیتے ہیں جس کے مطابق ان کو اپنی نجات بالکل محفوظ نظر آتی ہے۔ وہ اپنے گھڑے ہوئے دین پر چلتے ہیں مگر اپنے کو دین خداوندی کا عَلَم بردار بتاتے ہیں۔ وہ دنیوی مقاصد کے لیے سرگرم ہوتے ہیں اور اپنی سرگرمیوں کو آخرت کا عنوان دیتے ہیں۔ وہ خود ساختہ سیاست چلاتے ہیں اور اس کو خدائی سیاست ثابت کرتے ہیں۔ وہ قومی مفادات کے لیے اٹھتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ وہ خیر الامم کا کردار ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔ مگر کوئی شخص بے دینی کو دین کہنے لگے تو اس بنا پر وہ اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا ،آدمی دنیا کی طرف دوڑے اور آخرت سے بے پروا ہو جائے تو یہ صرف گمراہی ہے اور اگر وہ اپنے دنیوی کاروبار کو خدا وررسول کے نام پر کرنے لگے تو یہ گمراہی پر ڈھٹائی کا اضافہ ہے۔ کیوں کہ یہ ایسے کام پر انعام چاہنا ہے جس کو آدمی نے انجام ہی نہیں دیا۔