ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيۡكُم مِّنۢ بَعۡدِ ٱلۡغَمِّ أَمَنَةٗ نُّعَاسٗا يَغۡشَىٰ طَآئِفَةٗ مِّنكُمۡۖ وَطَآئِفَةٞ قَدۡ أَهَمَّتۡهُمۡ أَنفُسُهُمۡ يَظُنُّونَ بِٱللَّهِ غَيۡرَ ٱلۡحَقِّ ظَنَّ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِۖ يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ ٱلۡأَمۡرِ مِن شَيۡءٖۗ قُلۡ إِنَّ ٱلۡأَمۡرَ كُلَّهُۥ لِلَّهِۗ يُخۡفُونَ فِيٓ أَنفُسِهِم مَّا لَا يُبۡدُونَ لَكَۖ يَقُولُونَ لَوۡ كَانَ لَنَا مِنَ ٱلۡأَمۡرِ شَيۡءٞ مَّا قُتِلۡنَا هَٰهُنَاۗ قُل لَّوۡ كُنتُمۡ فِي بُيُوتِكُمۡ لَبَرَزَ ٱلَّذِينَ كُتِبَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقَتۡلُ إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمۡۖ وَلِيَبۡتَلِيَ ٱللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمۡ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمۡۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
Then after distress, He sent down upon you security [in the form of] drowsiness, overcoming a faction of you, while another faction worried about themselves, thinking of Allah other than the truth - the thought of ignorance, saying, "Is there anything for us [to have done] in this matter?" Say, "Indeed, the matter belongs completely to Allah." They conceal within themselves what they will not reveal to you. They say, "If there was anything we could have done in the matter, some of us would not have been killed right here." Say, "Even if you had been inside your houses, those decreed to be killed would have come out to their death beds." [It was] so that Allah might test what is in your breasts and purify what is in your hearts. And Allah is Knowing of that within the breasts
The most important thing for the believer, in life’s trials and tribulations, is to remain calm and composed, so that he may draw up his plans with full concentration. Such composure and concentration derive from complete trust placed in God. Even on the most earth-shaking of occasions, when people find it impossible to sleep, the believers are able to revitalize themselves with the soothing effect of sleep. This was demonstrated on the occasion of Uhud when, despite the severest of conditions, they were able to have a good night’s sleep. Rested and refreshed, they then pursued the enemy forces as far as Hamraul-Asad, some eight miles from Madinah. Severely wounded and defeated, they would not have been able to take any further action, had calm not descended upon them. This hot pursuit awed the enemy, who turned about and retreated to Makkah. This is the state in which the believers live, whereas those who have not made God their guardian and protector in the full sense of these words, inevitably fear for their own lives. Bereft of any concern for religion, they are engrossed in their own selves. Such people are never blessed with composure through divine succour.
زندگی کے معرکہ میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ آدمی کا چین اس سے رخصت نہ ہو۔ وہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنا منصوبہ بنانے کے قابل رہے۔ اللہ پر بھروسہ کی وجہ سے اہلِ ایمان کو یہ چیز کمال درجہ میں حاصل ہوتی ہے۔ حتی کہ ہلادینے والے موقع پر جب کہ لوگوں کی نیندیں اُڑ جاتی ہیں، اس وقت بھی وہ اس قابل رہتے ہیں کہ ایک نیند لے کر دوبارہ تازہ دم ہوسکیں۔ احد کے موقع پر اس کا ایک مظاہرہ اس طرح ہوا کہ شکست کے بعد سخت ترین حالات کے باوجود وہ سو سکے اور اگلے دن حمراء الاسد تک دشمن کا پیچھا کیا، جو مدینہ سے ۸ میل کے فاصلے پر ہے۔ اس کے نتیجہ میں فاتح دشمن مرعوب ہو کر مکہ واپس چلا گیا۔ یہ سچے اہل ایمان کا حال ہے۔مگر جو لوگ پورے معنوں میں اللہ کو اپنا ولی وسرپرست بنائے ہوئے نہ ہوں، ان کو ہر طرف بس اپنی جان کا خطرہ نظر آتا ہے۔ دین کی فکر سے خالی لوگ اپنی ذات کی فکر میں پڑے رہتے ہیں وہ اللہ کی نصرتِ اطمینان میں سے اپنا حصہ نہیں پاتے۔
احد کے موقع پر عبد اللہ بن اُبي کی رائے تھی کہ مدینہ میں رہ کر جنگ کی جائے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مخلص مسلمانوں کے مشورہ پر باہر نکلے اور احد پہاڑ کے دامن میں مقابلہ کیا۔ درّہ پر متعین دستہ کی غلطی سے جب شکست ہوئی تو ان لوگوں کو موقع ملا۔ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ اگر ہماری بات مانی گئی ہوتی اور مدینہ میں رہ کر لڑتے تو اس بربادی کی نوبت نہ آتی۔ مگر موت خدا کی طرف سے ہے اور وہیں آکر رہتی ہے جہاں وہ کسی کے لیے لکھی ہوئی ہے۔ احتیاطی تدبیریں کسی کو موت سے بچا نہیں سکتیں۔ اس طرح کے واقعات، خواہ بظاہر ان کا جو سبب بھی نظر آئے، وہ اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں۔ تاکہ اللہ کے سچے بندے اللہ کی طرف رجوع کرکے مزید رحمتوں کے مستحق بنیں۔ اور جو سچے نہیں ہیں ان کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آجائے۔
احد کے درہ پر جو پچاس تیر انداز متعین تھے جب انھوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کو فتح ہوگئی ہے تو ان میں سے کچھ لوگوں نے اصرار کیاکہ چل کر مال غنیمت لوٹیں ۔ مگر عبد اللہ بن جبیرؓ او ران کے کچھ ساتھیوں نے کہا نہیں۔ ہم کو ہر حال میں یہیں رہنا ہے کیوں کہ یہی رسول اللہ کا حکم ہے۔ بالآخر گیارہ کو چھوڑ کر بقیہ لوگ چلے گئے۔ باہمی اختلاف کی اس کمزوری سے شیطان نے اندر داخل ہونے کا راستہ پالیا۔ تاہم انھوں نے جب اپنی غلطی کا اعتراف کیا تو اللہ نے ان کو معاف کردیا اور ابتدائی نقصان کے بعد ان کی مدد اس طرح کی کہ دشمنوں کے دل میں رعب ڈال کر ان کو واپس کردیا۔ حالاں کہ اس وقت وہ مدینہ سے صرف چند میل کے فاصلے پر رہ گئے تھے۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →