كُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِۗ وَلَوۡ ءَامَنَ أَهۡلُ ٱلۡكِتَٰبِ لَكَانَ خَيۡرٗا لَّهُمۚ مِّنۡهُمُ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَأَكۡثَرُهُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ
You are the best nation produced [as an example] for mankind. You enjoin what is right and forbid what is wrong and believe in Allah. If only the People of the Scripture had believed, it would have been better for them. Among them are believers, but most of them are defiantly disobedient
The benefit the intellectuals have of being imbued with this spirit is that all their attention remains focussed on goodness, that is, on the basics of religion. They have thus no time for hair-splitting arguments about secondary aspects of religion. Those who become the heralds of God’s greatness and arise both as warners and as harbingers of glad tidings have not the time to waste their expertise on matters of no significance. In this way, the task of exhorting people to lead a life of righteousness and forbidding evil engages them in finding solutions to real problems. Verbal jousting over supposed problems seems to them meaningless and futile, just as a farmer finds the game of chess a futile exercise, a waste of time. In showing willingness to be obedient to well-intentioned religious elders, the people are saved from schism and strife. Submitting to an authority unites all of them. Unity becomes a common attribute of believers, and unity, without doubt is the greatest of all powers in this world.
یہود دین خداوندی کے حامل بنائے گئے تھے۔ مگر وہ اس کو لے کر کھڑے نہ ہوسکے اور اس کو محفوظ رکھنے میں بھی ناکام رہے۔ اس کے بعد اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اپنا دین اس کی صحیح صورت میں بھیجا۔ اب امت مسلمہ لوگوں کے درمیان خدا کی رہنمائی کے لیے کھڑی ہوئی ہے۔ اس منصب کا تقاضا ہے کہ یہ امت اللہ کی سچی مومن بنے۔ وہ دنیا کو بھلائی کی تلقین کرے اور ان چیزوں سے باخبر کرے جو اللہ کے نزدیک برائی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کام چونکہ خدائی کام ہے اس لیے خدا نے اس کے ساتھ اپنا تحفظاتی نظام بھی شامل کردیا ہے۔ جو لوگ اس کارِ خداوندی کے لیے اٹھیں گے ان کے لیے خدا کی ضمانت ہے کہ ان کے مخالفین ان کو معمولی اذیتوں کے سوا کوئی حقیقی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ تاہم یہود کے انجام کی صورت میں اس کی بھی دائمی مثال قائم کردی گئی کہ اس منصب حق پر سرفراز کيے جانے کے بعد جو لوگ بد عہدی کریں ان کی سزا اسی دنیا میں اس طرح شروع ہوجاتی ہے کہ ان کو ذاتی عزت وسرفرازی سے محروم کردیا جاتا ہے۔ خدا کی رحمتوں سے محرومی کی وجہ سے ان کی بے حسی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ ان لوگوں کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں جو ان کی کوتاہیوں کی طرف متوجہ کرنے کے لیے اٹھیں۔
’’یہود پر ذلّت مسلط کردی گئی إلاّ یہ کہ انھیں اللہ کی یا بندوں کی امان حاصل ہو‘‘۔ یہ اللہ کی ایک خصوصی سنت ہے جس کا تعلق اس قوم سے ہے جس کو خدا نے اپنے دین کا نمائندہ بنایا ہو۔ دین کی سچی نمائندگی ایسی قوم کے لیے غلبہ کی ضمانت ہوتی ہے۔ اور دین کی سچی نمائندگی سے ہٹنا اس کو موجودہ دنیا میں مغلوب کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ ایسی قوم اگر دین خدا کی نمائندگی سے ہٹ جائے تو موجودہ دنیا میں کبھی وہ ذاتی غلبہ حاصل نہیں کرسکتی۔ کسی درجہ میںاگر کبھی اس کو اختیار مل جائے تو وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کے بل پر ہوگا۔ یا تو اس ليے کہ اس کو کسی خدائی حکومت کی طرف سے امان دیاگیا ہے یا اس لیے کہ کسی غیر قوم کی حکومت نے اس کو اپنی حمایت وسرپرستی میںلے لیا ہے۔
کوئی قوم ذلّت کی اس سزا کی مستحق اس وقت بنتی ہے جب کہ اس کا یہ حال ہوجائے کہ وہ خدائی نشانيوں کا انکار کرنے لگے۔ نشانیوں کا انکار سچے دلائل کا انکار ہے۔ حق ہمیشہ دلائل کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے جو شخص سچی دلیل کا انکار کرتا ہے، وہ خود خدا کا انکار کررہا ہے۔