وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ تَفَرَّقُواْ وَٱخۡتَلَفُواْ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُۚ وَأُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٞ
And do not be like the ones who became divided and differed after the clear proofs had come to them. And those will have a great punishment
The benefit the intellectuals have of being imbued with this spirit is that all their attention remains focussed on goodness, that is, on the basics of religion. They have thus no time for hair-splitting arguments about secondary aspects of religion. Those who become the heralds of God’s greatness and arise both as warners and as harbingers of glad tidings have not the time to waste their expertise on matters of no significance. In this way, the task of exhorting people to lead a life of righteousness and forbidding evil engages them in finding solutions to real problems. Verbal jousting over supposed problems seems to them meaningless and futile, just as a farmer finds the game of chess a futile exercise, a waste of time. In showing willingness to be obedient to well-intentioned religious elders, the people are saved from schism and strife. Submitting to an authority unites all of them. Unity becomes a common attribute of believers, and unity, without doubt is the greatest of all powers in this world.
’’تم میں ایک گروہ ہو جو دعوت الی الخیر کا کام کرے اور نیکیوں کا حکم دے اور برائیوں سے روکے‘‘ یہ ارشاد بیک وقت دو باتوں کو بتارہا ہے۔ ایک کا تعلق خواص سے ہے اوردوسرے کا تعلق عوام سے۔ امت کے خواص کے اندر یہ روح ہونی چاہيے کہ وہ امت کے اندر برائی کو برداشت نہ کریں، وہ نیکی اور بھلائی کے لیے تڑپنے والے ہوں۔ ان کا یہ جذبۂ اصلاح انھیں مجبور کرے گا کہ وہ لوگوں کہ احوال سے غیر متعلق نہ رہیں، وہ اپنے بھائیوں کو نیکی کی راہ پر چلنے کے لیے اکسائیں اور انھیں برائی سے دور رہنے کی تلقین کریں۔
تاہم اس عمل کی کامیابی کے لیے امت کے عوام کے اندر اطاعت کا جذبہ ہونا بھی لازماً ضروری ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے خواص کا احترام کریں۔ وہ ان کے کہنے سے چلیں اور جہاں وہ روکیں وہاں وہ رک جائیں۔ وہ اپنے آپ کو اپنے دینی ذمہ داروں کے حوالے کردیں۔ جس مسلم گروہ میں خواص اور عوام کا یہ حال ہو وہی فلاح پانے والا گروہ ہے۔ سمع وطاعت کی اس فضا ہی میں کسی معاشرہ کے اندر وہ اوصاف جنم لیتے ہیں جو اس کو دنیا میںطاقت ور اور آخرت میںنجات یافتہ بناتے ہیں۔
خواص کے اندر اس روح کے زندہ ہونے کا یہ فائدہ ہے کہ ان کی ساری توجہ خیر، بالفاظ دیگر اساسات دین پر مرتکز رہتی ہے۔ فرعی اور جزئی مسائل میں موشگافیاں کرنے کا ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا۔ جو لوگ خدا کی عظمتوں کے نقیب بنیں اور آخرت کے منذراور مبشربن کر اٹھیں ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ ظاہری مسائل کی جزئیات میں اپنی مہارت دکھائیں۔ اس کے ساتھ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام انھیں حقیقی مسائل کی اصلاح میں لگا دیتا ہے۔ فرضی اور قیاسی مسائل میں ذہنی ورزش کرنا انھیں اسی طرح بے معنی اور بے فائدہ معلوم ہونے لگتا ہے جس طرح ایک کسان کو شطرنج کا کھیل۔
عوام کو اس نظام اطاعت پر اپنے کو راضی کرنے کا یہ فائدہ ملتا ہے کہ وہ ٹکڑوں ٹکڑوں میں بٹنے سے بچ جاتے ہیں۔ ایک حکم کے تحت چلنے کے نتیجے میں سب مل کر ایک ہوجاتے ہیں۔ اتحاد واتفاق ان کی عام صفت بن جاتی ہے اور بلا شبہ اتحاد و اتفاق سے زیادہ بڑی طاقت اس دنیا میں کوئی نہیں۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →