فَلَمَّا جَآءَهُم مُّوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَا بَيِّنَٰتٖ قَالُواْ مَا هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّفۡتَرٗى وَمَا سَمِعۡنَا بِهَٰذَا فِيٓ ءَابَآئِنَا ٱلۡأَوَّلِينَ
But when Moses came to them with Our signs as clear evidences, they said, "This is not except invented magic, and we have not heard of this [religion] among our forefathers
If an individual thinks highly of himself, and if someone of apparently ordinary status comes before him and voices outright criticism of him, he immediately flares up. He ridicules his critic and makes different types of derogatory statements with a view to undermining him. This is what Pharaoh did in the case of Moses.
ایک شخص اپنے کو بڑا سمجھتاہو، اس کے سامنے ایک بظاہر معمولی آدمی آئے اور اس پر براہِ راست تنقید کرے تو وہ فوراً بپھر اٹھتا ہے۔ وہ اس کا استہزا کرتاہے اور اس کا مذاق اڑانے کے ليے طرح طرح کی باتیں کرتا ہے۔ یہی اس وقت فرعون نے حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں کیا۔
’’میں اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا‘‘— کوئی سنجیدہ جملہ نہیںہے۔ ان الفاظ سے فرعون کا مقصود بیانِ حقیقت نہیں بلکہ تحقیر موسیٰ ہے۔ اسی طرح فرعون نے جب اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ پختہ اینٹ تیار کرکے ایک اونچی عمارت بناؤ تاکہ میں آسمان میں جھانک کر موسیٰ کے خدا کو دیکھوں، تو یہ کوئی سنجیدہ حکم نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ واقعۃً وہ اپنے وزیر کے نام ایک تعمیری فرمان جاری کررہا ہے۔ یہ صرف حضرت موسیٰ کا استہزا تھا، نہ کی فی الواقع تعمیر مکان کا کوئی حکم۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →