وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِۦٓ إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُكُمۡ أَن تَذۡبَحُواْ بَقَرَةٗۖ قَالُوٓاْ أَتَتَّخِذُنَا هُزُوٗاۖ قَالَ أَعُوذُ بِٱللَّهِ أَنۡ أَكُونَ مِنَ ٱلۡجَٰهِلِينَ
And [recall] when Moses said to his people, "Indeed, Allah commands you to slaughter a cow." They said, "Do you take us in ridicule?" He said, "I seek refuge in Allah from being among the ignorant
Sometimes those entrusted with the law of God go astray by contradicting it in practice, while finding words to make it appear that they are following it to the letter. The Israelites, for instance, were commanded to keep holy the Sabbath day, and refrain from worldly pursuits on that day. But they violated it and went about their work on the Sabbath as on any other day. Furthermore, they sought to justify their actions and made out that what they were doing conformed to the will of God. This audacity incurred God’s displeasure and they were turned into apes. Whenever one turns against the law of God, one puts oneself on a par with animals who follow no code of ethics. Those who play games with divine law, should fear being deprived of their human dignity, and being brought down to the level of animals.
حضرت موسیٰ کے زمانہ میں بنی اسرائیل میں قتل کا ایک واقعہ ہوا۔ قاتل کا پتہ لگانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبی کے واسطہ سے ان کو یہ حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کرو اور اس کا گوشت مقتول پر مارو، مقتول اللہ کے حکم سے قاتل کا نام بتادے گا۔ یہ ایک معجزاتی تدبیر تھی جو چند مقاصد کے لیے اختیار کی گئی
۱۔ مصر میں لمبی مدت تک قیام کرنے کی وجہ سے بنی اسرائیل مصری تہذیب اور رسوم سے متاثر ہوگئے۔ مصری قوم گائے کو پوجتی تھی۔ چنانچہ مصریوں کے اثر سے بنی اسرائیل میں بھی گائے کے مقدس ہونے کا ذہن پیدا ہوگیا۔ جب مذکورہ واقعہ ہوا تو اللہ نے چاہا کہ اس واقعہ کے ذیل میں ان کے ذہن سے گائے کے تقدس کو توڑا جائے۔ چنانچہ قاتل کا پتہ لگانے کے لیے گائے کے ذبح کی تدبیر اختیار کی گئی۔
۲۔ اسی طرح بنی اسرائیل نے یہ غلطی کی تھی کہ فقہی موشگافی (hair splitting)اور بحث کے نتیجہ میں خدا کے سادہ دین کو ایک بوجھل دین بنا ڈالا تھا۔ چنانچہ مذکورہ واقعہ کے ذیل میں ان کو یہ سبق دیاگیا کہ اللہ کی طرف سے جو حکم آئے اس کو سادہ معنوں میں لے کر فوراً اس کی تعمیل میں لگ جاؤ۔ کھو دکرید کا طریقہ اختیار نہ کرو۔ اگر تم نے ایسا کیا کہ حکم کی تفصیلات جاننے اور اس کے حدود متعین کرنے کے لیے موشگافیاںکرنے لگے توتم سخت آزمائش میں پڑ جاؤ گے۔ اس طرح ایک سادہ حکم شرائط کا اضافہ ہوتے ہوتے ایک سخت حکم بن جائے گا جس کی تعمیل تمھارے لیے بے حد مشکل ہو۔
۳۔ اس واقعہ کے ذریعہ انسانوں کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ دوسری زندگی اسی طرح ایک ممکن زندگی ہے جیسے پہلی زندگی۔ اللہ ہر آدمی کو مرنے کے بعد زندہ کردے گا اور اس کو دوبارہ ایک نئی دنیا میں اٹھائے گا۔
Maulana does not cite this verse in the lectures indexed so far. The verses of this surah Maulana does cite →