وَءَامِنُواْ بِمَآ أَنزَلۡتُ مُصَدِّقٗا لِّمَا مَعَكُمۡ وَلَا تَكُونُوٓاْ أَوَّلَ كَافِرِۭ بِهِۦۖ وَلَا تَشۡتَرُواْ بِـَٔايَٰتِي ثَمَنٗا قَلِيلٗا وَإِيَّـٰيَ فَٱتَّقُونِ
And believe in what I have sent down confirming that which is [already] with you, and be not the first to disbelieve in it. And do not exchange My signs for a small price, and fear [only] Me
The greatest favour that God bestows upon a people is to send His prophet to them, thus opening for them the road to eternal salvation. Prior to the times of the Prophet Muhammad—the last of the prophets—this favour was the privilege of the Children of Israel. However, soon their religion ceased to be something that they accepted as a matter of conscious decision, and they let it deteriorate into a set of lifeless rituals passed on from one generation to the next. With the coming of the Prophet Muhammad the reality came to light. Those whose sensitivity to truth was still alive recognized the veracity of his prophethood and followed him. But those for whom religion had become a hereditary tradition found his message unfamiliar and failed to recognize the truth when they heard it; they rejected it and turned against the Prophet. In view of the clear prophecies in the Torah of the coming of an Arab Prophet, it would not have been difficult for the Israelites to recognize the truth of his prophethood and believe in him; but to believe in him was not in their worldly interests. Over hundreds of years an ecclesiastical structure had developed, in which the Israelites had held pride of place. Being the successors of saints and prophets, they were looked up to for spiritual leadership. People also paid tribute and presented offerings to them all the year round. It appeared to them that if they accepted the Arab Prophet, their privileged religious position would come to an end and their whole profit structure would be demolished.
یہود یا بنی اسرائیل کون ہیں ۔یہ حضرت ابراہیم کے پوتے، حضرت یعقوب بن اسحاق کی نسل سے تعلق رکھنےوالے لوگ ہیں ۔ حضرت یعقوب کے چوتھے بیٹے کا نام یہودا (Juda) تھا۔ اُن سے منسوب ہو کر بعد کو یہ لوگ عام طورپر یہودی کہے جانے لگے۔ حضرت یعقوب کا عُرفی نام اسرائیل تھا۔ اس نسبت سے قوم یہود کوبنی اسرائیل (Children of Israel) بھی کہا جاتاہے۔
قرآن میں امت یہود کا ذکر مختلف مقامات پر آیا ہے، اور ان کی تنقید کی گئی ہے۔ یہ تنقید اصلاً یہود کی شکایت کے طورپر نہیں ہے، بلکہ وہ امت مسلمہ کی نصیحت کے طورپر ہے- جب کسی قوم پر زوال آتا ہے تو ان کا کیا حال ہوجاتاہے- اللہ تعالی نے قرآن میں امت یہود (یا نصاری)کے حوالے سےاسی زوال کے ظاہرے کی نشاندہی فرمائی ہے، اور اہل ایمان کو بتایا ہے کہ اس وقت انھیں کیا کرنا چاہیے-
کسی گروہ پر اللہ کا سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ وہ اس کے پاس اپنا پیغمبر بھیجے اور اس کے ذریعے اس گروہ کے اوپر ابدی فلاح کا راستہ کھولے۔ نبی آخر الزماں کی بعثت سے پہلے یہ نعمت بنی اسرائیل کو دی گئی تھی مگر مدت گزرنے کے بعد ان کا دین ان کے لیے ایک قسم کی تقلیدی رسم بن گیا تھا، نہ کہ شعوری فیصلہ کے تحت اختیار کی ہوئی ایک چیز۔ نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت نے حقیقت کھول دی۔ ان میں سے جن افراد کا شعور زندہ تھا وہ فوراً آپ کی صداقت کو پہچان گئے اور آپ کے ساتھی بن گئے۔ اور جن لوگوں کے لیے ان کا دین آبائی رواج بن چکا تھا ان کو آپ کی آواز نامانوس آواز لگی، وہ بدک گئے اور آپ کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے۔
ااگرچہ آپ کی نبوت کے بارے میں پچھلی آسمانی کتابوں میں اتنی واضح علامتیں تھیں کہ ان کے ماننے والوں کے لیے آپ کی صداقت کو سمجھنا مشکل نہ تھا، مگر دنیوی مفاد اور مصلحتوں کی خاطر انھوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا۔ صدیوں کے عمل سے ان کے یہاں جو مذہبی ڈھانچہ بن گیا تھا اس میں ان کو سرداری حاصل ہوگئی تھی۔ وہ بزرگوں کی گدیوں پر بیٹھ کر عوام کا مرجع بنے ہوئے تھے۔ مذہب کے نام پر طرح طرح کے نذرانے سال بھر ان کو ملتے رہتے تھے۔ ان کو نظر آیا کہ اگر انھوں نے نبی عربی کو سچا مان لیا تو ان کی مذہبی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ مفادات کا سارا ڈھانچہ ٹوٹ جائے گا۔ اہل کتاب کو چوں کہ اس وقت عرب میں مذہب کی نمائندگی کا مقام حاصل تھا، لوگ ان سے نبی عربی کی بابت پوچھتے۔ وہ اپنے زوال یافتہ ذہنیت کی بنا پر معصومانہ انداز میں کوئی ایسی شوشہ کی بات کہہ دیتے جس سے پیغمبر کی ذات اور آپ کا مشن لوگوں کی نظر میں مشتبہ ہوجائے۔ اپنے وعظوں میں وہ لوگوں سے کہتے کہ حق پرست بنو اور حق کا ساتھ دو۔ مگر عملاً جب خود ان کے لیے حق کا ساتھ دینے کا وقت آیا تو وہ حق کا ساتھ نہ دے سکے۔
خدا کی پکار پر لبیک کہنا جب اس قیمت پر ہو کہ آدمی کو اپنی زندگی کا ڈھانچہ بدلنا پڑے، عزت وشرف کی گدیوں سے اپنے کو اتارنا ہوتو یہ وقت ان لوگوں کے لیے بڑا سخت ہوتا ہے جو اِنھیں دنیوی جلووں میںاپنا مذہبی مقام بنائے ہوئے ہوں، مگر وہ لوگ جو خشوع کی سطح پر جی رہے ہوں ان کے لیے یہ چيزیں رکاوٹ نہیں بنتیں۔ وہ اللہ کی یاد میں، اللہ کے لیے خرچ کرنے میں، اللہ کے حکم کے آگے جھک جانے میں اور اللہ کے لیے صبر کرنے میں وہ چیز پالیتے ہیں جو دوسرے لوگ دُنیا کے تماشوں میں پاتے ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ ڈرنے کی چیزاللہ کا غضب ہے، نہ کہ دنیوی اندیشے۔
1 further citation is on a recording that is not available on YouTube at the moment, so it is not shown here. It is still counted above and included in the download.