فَأَزَلَّهُمَا ٱلشَّيۡطَٰنُ عَنۡهَا فَأَخۡرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِۖ وَقُلۡنَا ٱهۡبِطُواْ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوّٞۖ وَلَكُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُسۡتَقَرّٞ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينٖ
But Satan caused them to slip out of it and removed them from that [condition] in which they had been. And We said, "Go down, [all of you], as enemies to one another, and you will have upon the earth a place of settlement and provision for a time
When God made Adam stand up in front of the angels including Iblis (Satan), and tested them by commanding them to bow down before Adam, He was giving the first man on earth a practical demonstration of the two paths that would be open to his progeny. Either they would follow the example of the angels and bow to God’s commandments, even if it meant bowing before someone they held inferior to themselves; or else they would be proud like Satan, and refuse to bow to others. This is the test that man faces throughout his entire life. Here on earth man is constantly faced with two alternative courses of action. He can either follow the course set by the angels and carry out God’s commandments by bowing before truth and justice in all that he does; or he can act as Satan did and, letting himself be controlled by arrogance and contempt, refuse to concede the right of others.
آدم کو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور ابلیس کے درمیان کھڑا کیا اور سجدہ کے امتحان کے ذریعہ آدمؑ کو عملی طورپر بتایا کہ ان کے لیے زمین پر دو ممکن راہیں ہوں گی۔ ایک فرشتوں کی طرح حکم الٰہی کے سامنے جھک جانا، خواہ اس کا مطلب اپنے سے کمتر ایک بندے کے آگے جھکنا کیوں نہ ہو۔ دوسرا ابلیس کی طرح اپنےکو بڑا سمجھنا اور دوسرے کے آگے جھکنے سے انکار کردینا۔ انسان کی پوری زندگی اسی امتحان کی رزم گاہ ہے۔ یہاں ہر وقت آدمی کو 2 رویوں میں سے کسی ایک رویہ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ ایک ملکوتی رویہ، یعنی دنیا کی زندگی میں جو معاملہ بھی پیش آئے، اللہ کے حکم کی تعمیل میں آدمی حق وانصاف کے آگے جھک جائے۔ دوسرا شیطانی رویہ، یعنی جب کوئی معاملہ پیش آئے تو آدمی کے اندر حسد اور گھمنڈ کی نفسیات جاگ اٹھیں اور وہ ان کے زیر اثر آکر صاحب معاملہ کے آگے جھکنے سے انکار کردے۔
ممنوعہ درخت (forbidden tree)کا معاملہ بھی اسی ذیل کاایک عملی سبق ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر ایک عورت اور مرد کے لیے کوئی نہ کوئی شجر ممنوعہ (forbidden tree)ہوتاہے۔ انسان کے بھٹکنے کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ وہ شیطان کے بہکاوے میں آجائے اور اس حد میں قدم رکھ دے جس میں جانے سے اللہ نے منع کیا ہے۔ ’’منع کيے ہوئے پھل‘‘ کو کھاتے ہی آدمی اللہ کی نصرت ، بالفاظ دیگر جنت کے استحقاق سے محروم ہوجاتا ہے۔ تاہم یہ محرومی ایسی نہیں ہے جس کی تلافی نہ ہوسکتی ہو۔ یہ امکان آدمی کے لیے پھر بھی کھلا رہتا ہے کہ وہ دوبارہ اپنے رب کی طرف لوٹے اور اپنے رویہ کو درست کرتے ہوئے اللہ سے معافی کا طلب گار ہو۔ جب بندہ اس طرح پلٹتا ہے تو اللہ بھی اس کی طرف پلٹ آتاہے اور اس کو اس طرح پاک کردیتاہے گویا اس نے گناہ ہی نہیں کیا تھا۔
کسی انسانی آبادی میں اللہ کی دعوت کا اٹھنا بھی اسی قسم کا ایک سخت امتحان ہے۔ داعیٔ حق بھی گویا ایک ’’آدم‘‘ہوتاہے جس کے سامنے لوگوں کو جھک جانا ہے۔ اگر وہ اپنے کبر اور اپنے تعصب کی وجہ سے اس کا اعتراف نہ کریں تو گویا کہ انھوں نے ابلیس کی پیروی کی۔ خدا اس دنیامیں عیاناً سامنے نہیںآتا، وہ اپنی نشانیوں کے ذریعہ لوگوں کو جانچتا ہے۔ جس نے خدا کی نشانی میں خدا کو پایا اسی نے خدا کو پایا اور جس نے خدا کی نشانی میں خدا کو نہیں پایا وہ خدا سے محروم رہا۔
2 further citations are on recordings that are not available on YouTube at the moment, so they are not shown here. They are still counted above and included in the download.